*’جب جب ظلم ہوگا، تب تب جہاد ہوگا‘:* مولانا محمود مدنی کے بیان پر گودی میڈیا، ہندوتوا لیڈر تلملا اٹھے! صدر جمیعت کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ناپاک کوشش، اصل تقریر میں ہندو۔مسلم اتحاد، صبر، اخوت اور آئینی وفاداری پر دیا زور (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیت علمائے ہند کی گورننگ باڈی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے متعدد اہم نکات پیش کیے جن کا مرکزی موضوع ملک میں ہندو–مسلم اتحاد، باہمی احترام، آئینی وفاداری اور مشکل حالات میں صبر و حکمت تھا۔ تاہم بدقسمتی سے گودی میڈیا کے کئی پلیٹ فارمز نے ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا، اسے اشتعال انگیزی کا رنگ دینے کی کوشش کی اور اسلام سے متعلق غلط تاثر عام کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے، جبکہ ہندو توا شدت پسندوں کی نفرت انگیز تقاریر پر یہی میڈیا مسلسل خاموش دکھائی دیتا ہے۔

مولانا مدنی نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ مسلمان ملک کے وفادار شہری ہیں، انہیں چاہئے کہ بہتر تعلقات قائم کریں، دوسروں کے مذہب و ثقافت کا احترام کریں اور اسلام کی اصل تعلیمات حکمت، محبت، خیر خواہی اور خدمتِ خلق کے ذریعے لوگوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن ہمیں صبر، استقامت اور حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

انہوں نے سورہ احقاف، سورہ احزاب، سورہ نحل اور سورہ حم السجدہ کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نبی کریمﷺ پر ظلم و ستم کے وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صبر اور اچھے طرزِ عمل کا حکم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام کا پیغام نفرت پر نہیں بلکہ محبت، عدل اور خیر خواہی پر مبنی ہے، اور مسلمانوں کو آج بھی اسی راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں ’’دعوتی مزاج‘‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ’’عداوتی مزاج‘‘ کی نہیں۔ انہوں نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے اسوہ کو مثال بناتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جنگ یا تصادم کے بجائے محبت، خدمت، اور نرم گفتاری کے ذریعے لاکھوں دلوں کو روشن کیا اور دلوں پر حکمرانی کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اسی دھرتی پر سب سے پہلے انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی آمد سے جڑا ہوا ہے۔ اس لئے یہ سرزمین مسلمانوں کے لیے کبھی اجنبی نہیں رہی۔ ہندوستان ہمیشہ سے مشترکہ تہذیب اور روحانی ہم آہنگی کا مرکز رہا ہے۔

گودی میڈیا نے مولانا مدنی کی تقریر کے محض چند جملے اچھال کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ وہ “جہاد” کے نام پر اشتعال پیدا کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے کئی مرتبہ واضح کیا کہ ہندوستان میں جہاد کے کسی عسکری یا غلط تصور کی کوئی گنجائش نہیں۔

مولانا مدنی نے کہاکہ ’’جہاد کا لفظ دراصل بھلائی، اصلاح اور انسانیت کی خدمت کے لیے آیا ہے۔‘‘
’’جہاد انفرادی یا انتقامی کارروائی نہیں، صرف ایک بااختیار اسلامی ریاست فیصلہ کر سکتی ہے۔‘‘
’’ہندوستان ایک جمہوری و سیکولر ملک ہے، یہاں جہاد کے نام پر کسی قسم کی بات موضوع ہی نہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور حکومت میں بیٹھے کئی لوگ ’’لَو جہاد، تھوک جہاد، لینڈ جہاد‘‘ جیسے جملے استعمال کرکے اسلام کی مقدس اصطلاحات کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں، جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔

جہاں مولانا مدنی کی تقریر کو میڈیا نے غلط انداز میں پیش کیا، وہیں دوسری طرف ملک میں ہندوتوا شدت پسند رہنما آئے دن مسلمانوں کے خلاف نفرت، گالی اور دھمکیوں پر مبنی بیانات دیتے ہیں۔ لیکن ایسے زہریلے ہیٹ اسپیچ پر نہ حکومت ایکشن لیتی ہے، نہ انتظامیہ حرکت میں آتی ہے اور نہ ہی گودی میڈیا اس پر آواز اٹھاتا ہے۔

اسی تناظر میں بی جے پی کے چند رہنماؤں نے مولانا مدنی کے خلاف انتہائی سخت، اشتعال انگیز اور بے بنیاد الزامات عائد کیے، لیکن میڈیا میں ان بیانات کو چیلنج کرنے یا جانچنے کی بجائے انہیں بڑھا چڑھاکر پیش کیا جارہا ہے۔

مولانا مدنی نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات زندگی کی علامت ہیں، مردہ قومیں آزمائشوں سے نہیں گزرتیں۔ زندہ قومیں مشکلات کا مقابلہ کرتی ہیں اور صبر کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ انہوں نے والدین کو بچوں کی اچھی تربیت، اخلاق، کردار، تعلیم اور جذباتی نشوونما پر بھرپور توجہ دینے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچے تعلیم کے ساتھ اخلاق اور دین کا نور حاصل کریں تو وہ خاندان، سماج اور ملک کی طاقت بنتے ہیں۔

مولانا مدنی کی پوری تقریر ہندو–مسلم اتحاد، آئین کی پاسداری، نفرت کے جواب میں محبت، صبر اور حکمت کی تعلیم پر مبنی تھی۔ لیکن گودی میڈیا نے اسے متنازع بنانے کی کوشش کی، جبکہ اصل پیغام امن، بھائی چارے اور یکجہتی کا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں