نیشنل ہیرالڈ کیس: سونیا اور راہول گاندھی کے خلاف نئی سخت ایف آئی آر درج، کانگریس کا شدیف ردّعمل، کہا ’سیاسی انتقام کی انتہا‘

حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی پولیس کی اکنامک آفنسز وِنگ (EOW) نے نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کیس میں کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اور سابق صدر راہل گاندھی سمیت آٹھ افراد کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کرلی ہے، جس پر کانگریس نے سخت سیاسی ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے “مودی-شاہ حکومت کی انتقامی کارروائی” قرار دیا ہے۔

یہ ایف آئی آر 3 اکتوبر 2025 کو ای ڈی ہیڈکوارٹرز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیو کمار گپتا کی شکایت پر درج کی گئی، جس میں سنگین الزامات شامل ہیں—مجرمانہ سازش، املاک کی غلط طور پر ہڑپ کا معاملہ، امانت میں خیانت اور دھوکہ دہی۔ عدالت نے بھی 29 نومبر کو ای ڈی کی چارج شیٹ پر غور کرتے ہوئے حتمی فیصلہ 16 دسمبر تک مؤخر کردیا اور کہا کہ ملزمین کو سنے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔

ایف آئی آر کے مطابق سونیا گاندھی، راہل گاندھی، سمن دوبے، سیم پٹرودا، ینگ انڈین، ڈوٹیکس مرچنڈائز پرائیویٹ لمیٹڈ، سنیل بھنڈاری اور ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (AJL) کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ AJL کی تقریباً 2000 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو محض 50 لاکھ روپے میں ینگ انڈین کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لیا گیا، جبکہ اے آئی سی سی نے 2002 سے 2011 کے درمیان AJL کو دیے گئے 90.21 کروڑ روپے کے قرض کو ”ناقابلِ وصول“ قرار دے دیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ینگ انڈین میں سونیا اور راہل گاندھی کی مشترکہ حصے داری 76 فیصد تھی اور اسی کمپنی کو 99 فیصد AJL شیئرز جاری کیے گئے، جس سے اصل شیئر ہولڈرز کو بھاری نقصان پہنچا۔

ایف آئی آر تین مزید مبینہ دھوکہ دہیوں کا ذکر کرتی ہے:
* 2017–18 میں 18.12 کروڑ روپے کے ’’جعلی چندے‘‘
* اے جے ایل کو 38.41 کروڑ روپے کا ’’جعلی ایڈوانس کرایہ‘‘
* 2017–2021 کے دوران 29.45 کروڑ روپے کا ’’غیر حقیقی اشتہاری آمدنی‘‘
ایف آئی آر کے مطابق ان اشتہارات کا تعلق کاروباری سرگرمیوں سے کم اور کانگریس قیادت کی سالگرہوں و مبارک پیغامات سے زیادہ تھا۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کانگریس نے شدید احتجاج کیا۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہاکہ “یہ سراسر سیاسی انتقام ہے۔ مودی-شاہ کی حکومت ڈرانے، دھمکانے اور ہراساں کرنے کی سیاست پر چل رہی ہے۔ نیشنل ہیرالڈ کیس ایک بے بنیاد معاملہ ہے اور سچ آخرکار جیتے گا۔”

سینئر وکیل اور کانگریس ترجمان ابھیشک منو سنگھوی نے اسے ’’پرانا اور بے ساکھ معاملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ کوئی رقم منتقل ہوئی، نہ کوئی جائیداد، پھر بھی منی لانڈرنگ کا مقدمہ کھڑا کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ینگ انڈین ایک نان پروفٹ کمپنی ہے، جس کے ڈائریکٹرز کسی قسم کا فائدہ، منافع یا ڈویڈنڈ نہیں لے سکتے، پھر بھی انہیں منی لانڈرنگ کا ملزم بنایا گیا ہے۔

سینئر کانگریس رہنما پرمود تیواری نے کہاکہ “یہ وہی ہتھکنڈے ہیں جو برطانوی حکومت استعمال کرتی تھی۔ ہم دبے تھے نہ دبیں گے۔ یہ سیاسی انتقام ہے اور ہم اسے بے نقاب کرتے رہیں گے۔”

یہ معاملہ سب سے پہلے بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی 2013 کی شکایت پر شروع ہوا تھا۔ 2014 میں عدالت نے مقدمے کا نوٹس لیا تھا۔ ای ڈی نے پچھلے سال 751.91 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کی تھی۔ اب دہلی پولیس کی نئی ایف آئی آر نے کیس کو مزید سنگین رخ دے دیا ہے، جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف اور صرف ’’گاندھی خاندان کو نشانہ بنانا‘‘ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں