چندرابابو نائیڈو کو مفتی محمود زبیر قاسمی کا مکتوب، امید پورٹل میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کی اپیل

حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی حکومت کے وقف پورٹل پر وقف جائیدادوں کے اندراج اور دستاویزات کی اپ لوڈنگ کی آخری تاریخ قریب آتے ہی آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں وقف اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرور ڈاؤن ہونے، پورٹل کے بار بار جام ہوجانے اور تکنیکی رکاوٹوں کے باعث ہزاروں فائلیں زیر التواء پڑی ہیں، جس کے سبب مقررہ ڈیڈلائن تک کام کی تکمیل تقریباً ناممکن ہوچکی ہے۔

اسی پس منظر میں جمعیت علماء ہند آندھرا پردیش و تلنگانہ (زیر سرپرستی حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدّظلہ) نے وزیر اعلیٰ جناب این۔ چندر بابو نائیڈو کو ایک باضابطہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے آخری تاریخ میں کم از کم پانچ ماہ کی توسیع کی اپیل کی ہے۔ یہ مکتوب جمعیت کے جنرل سکریٹری مفتی محمود زبیر قاسمی نے تحریر کیا، جسے تلگودیشم پارٹی کے مسلم ذمہ داروں کے توسط سے وزیر اعلیٰ کے دفتر پہنچایا گیا۔

جمعیت نے اپنے 2 دسمبر کے مکتوب میں واضح کیا کہ مرکزی حکومت نے وقف جائیدادوں کی اپ لوڈنگ کی آخری تاریخ 6 دسمبر مقرر کی ہے، مگر دونوں ریاستوں کے زمینی حقائق اس مہلت کے اندر کام مکمل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے۔ مکتوب میں بتایا گیا کہ پورٹل کا سرور اکثر بند رہتا ہے، اور مسلسل کوشش کے باوجود دن بھر میں صرف تین سے چار جائیدادیں ہی اپ لوڈ ہو پا رہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں فائلیں، نقشے، دستاویزات اور حدود کی نشاندہی کے مراحل ابھی باقی ہیں، جس کے لیے مزید خاصا وقت درکار ہے۔

ریاستی صدر مفتی غیاث الدین مدّظلہ اور جمعیت کے دیگر ذمہ داران نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین صورتِ حال میں مداخلت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے باضابطہ درخواست کریں کہ وقف جائیدادوں کے اندراج کے لیے کم از کم پانچ ماہ کی مہلت بڑھائی جائے۔ ان کے مطابق یہ توسیع ریاستوں کے وقف اداروں، متولیوں اور مسلم برادری کے لیے بڑی راحت ثابت ہوگی۔

مفتی محمود زبیر قاسمی نے بتایا کہ مرکز کے متعلقہ وزیر سے رابطہ کرنے پر تاریخ میں توسیع کے سلسلے میں سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد جمعیت نے وزیر اعلیٰ نائیڈو سے وزیر اعظم تک معاملہ پہنچانے کی گزارش کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو ارسال کردہ یہ مکتوب حکومتی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں وقف اداروں کے لیے کسی مثبت فیصلے کا اعلان ہوسکتا ہے۔ اللہ رب العزت ملتِ اسلامیہ کی حفاظت فرمائے اور امت کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں