حیدرآباد (دکن فائلز) گورے گاؤں کے معروف ویویک ودیالائے اینڈ جونئیر کالج کی انتظامیہ کی جانب سے مسلم لڑکیوں کے برقعہ پہننے پر پابندی ہندوستان کے آئینی اصولوں کی کھلے طور پر پامالی ہے۔ کالج نے ایک واحد واقعہ، گزشتہ سال امتحان میں ایک برقعہ پوش لڑکی کی جانب سے نقل نویسی کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے پورے مذہبی لباس پر پابندی لگا دی، جو نہایت غیر منصفانہ، جانبدارانہ اور امتیازی اقدام ہے۔ یہ پابندی سیدھی طرح مذہبی آزادی اور مساوات کے اصولوں کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔
اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن مہاراشٹر ساؤتھ زون نے کہا کہ کالج کی پالیسی واضح طور پر آرٹیکل 14، 15 اور 25 کے خلاف ہے، اور مسلم طالبات کو کلاس روم کے اندر اپنے مذہبی عقیدہ سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ کالج کا یہ کہانا کہ پابندی “یونیفارم اور اینٹی چیٹنگ پالیسی” کا حصہ ہے۔ اگر مقصد واقعی نقل روکنا ہوتا تو مناسب اقدامات اختیار کیے جاتے، نہ کہ مخصوص مذہبی لباس پر غیرضروری طور رپ مکمل پابندی عائد کردی جاتی۔
یہ بھی قابلِ تشویش ہے کہ داخلے کے وقت طالبات ایسی کسی پابندیوں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ اب داخلہ کے بعد انہیں داخلہ منسوخ کرنے کی دھمکی دینا تعلیمی حقوق کی توہین ہے۔ کئی طالبات نے مقامی پولیس چوکی اور ایک وکیل سے رجوع کیا اور متاثرہ طالبات نے کالج انتظامیہ کے ہٹلری فرمان کے خلاف شدید احتجاج کیا اور بھوک ہڑتال کی دھمکی دی۔
گورے گاؤں پولیس نے کہا ہے کہ تاحال کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ معاملہ محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ یہ آئینی اصولوں، تعلیمی حقوق اور مذہبی آزادی کا معاملہ ہے۔ مہاراشٹر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو فوری طور پر مداخلت کر کے اس شرمناک پابندی کو واپس لینا چاہیے اور کالج انتظامیہ سے واضح جواب طلب کرنا چاہیے کہ انہوں نے کن قانونی جواز کی بنیاد پر مسلم طالبات کے مذہبی لباس پر پابندی عائد کرنے کا ہٹلری فرمان جاری کیا۔
مذہبی آزادی کے خلاف یہ اقدام نہ صرف طالبات کا اعتماد پامال کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ کالج انتظامیہ کو فوری طور پر اس اشتعال انگیز و امتیازی فیصلہ کو واپس لینا چاہیے اور آئینی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے جامع رہنمائی جاری کی جانی چاہیے۔


