حیدرآباد (دکن فائلز) جماعت اسلامی ہند کیرالہ یونٹ نے بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کے سریندرن، منورما نیوز کے ایڈیٹر اور متعلقہ پروگرام کے ایک رپورٹر کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں الزام ہے کہ ایک عوامی تقریب میں منورما نیوز کے پروگرام “امارتھم اکالتھم” کے دوران سریندرن نے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی دعوے کیے کہ جماعت اسلامی لال قلعہ بم دھماکے میں ملوث تھی۔
نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ بیان حقائق کے سراسر منافی، بے بنیاد اور جماعت اسلامی کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سیاسی کوشش ہے۔ ایڈووکیٹ امین حسن کے مطابق، یہ الزامات نہ صرف جماعت اسلامی کی ساکھ کے خلاف ہیں بلکہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں فرقہ وارانہ فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق، سریندرن کا مقصد اسلاموفوبیا پھیلانا، مسلمانوں کو بدنام کرنا اور مذہبی تقسیم کو سیاسی فائدے میں بدلنا ہے۔
جماعت اسلامی نے نوٹس میں کہا کہ جھوٹے بیانات کی ٹی وی، یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر وسیع گردش سے تنظیم کے کارکنان، حامیوں اور عوام کو ذہنی اذیت اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم نے ایک کروڑ روپے کے ہرجانے، فوری معذرت اور بیان کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ قانونی نوٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سریندرن کا دعویٰ تعزیرات ہند کی دفعہ 356(1) کے تحت قابلِ سزا جرم ہے، اور اگر سات دن کے اندر معذرت اور وضاحت نہ کی گئی تو جے آئی ایچ دیوانی اور فوجداری کارروائی شروع کرے گی۔
واضح کر دیا ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے مذہبی تنظیموں پر بے بنیاد الزامات لگانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے بروقت قانونی اقدام اٹھا کر اپنے موقف کا مضبوط دفاع کیا ہے اور فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کے خلاف واضح پیغام دیا ہے۔


