بابری مسجد کی شہادت کی 33ویں برسی: ملک بھر میں مسلمانوں نے غم و اندوہ کا اظہار کیا اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد، مختلف ریاستوں میں سخت ترین سیکیورٹی انتظامات

حیدرآباد (دکن فائلز) بابری مسجد کی شہادت کو آج 33 سال مکمل ہوگئے۔ 6 دسمبر 1992 کی دردناک شام کو ایودھیا میں انتہا پسندوں نے تاریخی بابری مسجد کو منہدم کیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں شدید فسادات پھوٹ پڑے تھے اور سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ آج اس سانحے کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں مسلمانوں نے خصوصی دعائیں کیں، قرآن خوانی کا اہتمام ہوا، اور ہر جگہ گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔

ملک بھر میں حالات پرامن رہے۔ مسلمانوں نے انتہائی سنجیدگی، تحمل اور قانون کے احترام کے ساتھ آج انتہائی غمگین انداز میں بابری مسجد شہادت کی برسی منائی، مساجد میں شہداء کے لیے دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر منعقدہ اجتماعات میں مسلم رہنماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ بابری مسجد کی شہادت نہ صرف ایک عبادت گاہ کا انہدام تھا بلکہ یہ ملک کے آئین، قانون کی بالادستی اور سیکولر اقدار کے لیے بھی ایک سنگین دھچکا تھا۔

اس موقع پر اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ایودھیا، متھرا اور وارانسی کو ہائی الرٹ زون قرار دیا گیا تھا۔ آج شام تک ملک کے مختلف مقامات پر مسلمانوں نے خاموشی سے بابری مسجد کے شہداء کے لیے دعا کی، مسلم تنظیموں نے “یومِ سیاہ” منایا، جبکہ کچھ علاقوں میں امن و انصاف کی بحالی کے لیے پرامن اجتماعات بھی ہوئے۔

متھرا میں کرشن جنم بھومی–شاہی عیدگاہ کے آس پاس آج دن بھر سخت ترین سیکیورٹی رہی۔ ایس پی کرائم اوینیش مشرا نے کہاکہ “درست شناخت نہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو حساس علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ ہر راستے پر چیکنگ جاری ہے اور فورس مکمل الرٹ پر ہے۔” ایس ایس پی شلوک کمار نے بتایا کہ “مقامی پولیس، پی اے سی، آر اے ایف اور بیرونی فورسز تعینات کی گئی ہیں، فلیگ مارچ جاری ہے اور 150 کے قریب حساس افراد کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔” سی سی ٹی وی، ڈرون نگرانی، اور مشکوک افراد کی باریک بینی سے جانچ آج دن بھر جاری رہی۔ ہوٹلز، سرائے، ریستوران، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر بھی کڑی نگرانی برقرار رہی۔

ایودھیا میں 6 دسمبر کی حساسیت کے باعث پولیس اور پی اے سی یونٹس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر کے اطراف خصوصی سیکیورٹی نافذ رہی، جبکہ عام دنوں کے مقابلے میں نقل و حرکت اور گاڑیوں کی چیکنگ میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا۔

عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آج کی مناسبت سے اپنے خطاب میں کہا کہ “6 دسمبر 1992 ہندوستان کے قانون، انصاف اور آئینی اقدار کے لیے سیاہ دن ہے۔” “سُپریم کورٹ کو یقین دہانی کے باوجود پولیس کی موجودگی میں مسجد کو شہید کیا گیا۔” “1949 میں بغیر قانونی طریقے کے مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں، یہ بات سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں لکھی ہے۔” “اگر مسجد شہید نہ ہوتی تو کیا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آسکتا تھا؟ فیصلہ آستھا کی بنیاد پر دیا گیا۔” انہوں نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزمان بری کیے جانے اور مرکزی حکومت کی جانب سے اپیل نہ کرنے پر بھی شدید سوالات اٹھائے۔

6 دسمبر 1992 کو بی جے پی، آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے وابستہ انتہا پسند ہجوم نے مسجد کو مسمار کیا، جس کے بعد ملک گیر فسادات میں سینکڑوں مسلمان جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ ایل کے اڈوانی، منوہر جوشی سمیت 68 افراد کو جے ایس لبراہان کمیشن نے موردِ الزام ٹھہرایا۔ انٹیلی جنس بیورو کے مطابق منصوبہ 10 ماہ پہلے تیار کیا گیا تھا۔ 2019 میں سپریم کورٹ نے زمین رام للا ٹرسٹ کو دینے کا فیصلہ سنایا۔ سنی وقف بورڈ کو مسجد کے لیے پانچ ایکڑ زمین مختص کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں