حیدرآباد (دکن فائلز) بابری مسجد کی شہادت کی 33ویں برسی کے موقع پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایک بار پھر واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ *’’جب تک دنیا باقی ہے، ہم ہندوستان میں بابری مسجد کی شہادت کا ذکر کرتے رہیں گے‘‘*۔ ہفتہ کے روز اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں اویسی نے سنگھ پریوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ تاریخ کا حصہ ہے، اور اسے فراموش کروانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوگی۔
اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سنگھ پریوار کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں باقاعدہ یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ بابری مسجد کی *’’ایک بھی اینٹ کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا‘‘*، لیکن اس کے باوجود شرپسند عناصر نے 6 دسمبر 1992 کو مسجد کو شہید کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ *’’ہماری مسجد جو ساڑھے پانچ سو سال سے وہاں موجود تھی، جہاں حئی علی الصلوٰۃ اور حیی الفلاح کی صدائیں بلند ہوتی تھیں، اسے تم نے شہید کر دیا، اور اس کے ملبے کی اینٹوں کو مومنٹو کے طور پر اپنے ساتھ لے گئے‘‘*۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1997213339672514630
اپنے جذباتی خطاب میں اویسی نے کہا کہ وہ اس واقعے کو صرف مذہبی نہیں بلکہ ’’انصاف اور قانون کی برتری‘‘ کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت ہندوستانی جمہوریت، سیکولرزم اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر ایک سوالیہ نشان ہے، اور آنے والی نسلوں تک اس واقعے کی حقیقت پہنچانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اپنے بچوں کو سکھا کر جائیں گے کہ بابری مسجد کی شہادت کو یاد رکھیں۔ اگر ہماری سسکیاں باقی رہیں گی تو ہم کہیں گے کہ یہ مسجد کے لیے نہیں، انصاف اور قانون کے احترام کے لیے تھا‘‘۔
بابری مسجد کی برسی کے موقع پر اُتر پردیش، مغربی بنگال اور ملک کی مختلف ریاستوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس علاقوں میں اضافی فورس تعینات کی گئی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اویسی نے اپنے سوشل میڈیا ویڈیو کے ذریعہ اس دن کو یاد رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور سماج کو یہ پیغام دیا کہ تاریخی حقائق کو دبایا نہیں جا سکتا اور بابری مسجد کا معاملہ ہمیشہ قومی بحث اور اجتماعی شعور کا حصہ رہے گا۔
واضح رہے کہ یہ تقریر پرانی ہے جو دارالسلام میں منعقد ایک جلسہ عام کے موقع پر اسدالدین کی جانب سے کی گئی تھی۔


