بڑی خبر: حیدرآباد میں ’بابری مسجد‘ کی یاد میں ’یادگار‘ تعمیر کرنے کا اعلان: مشتاق ملک (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) بابری مسجد کی شہادت کی 33ویں برسی کے موقع پر حیدرآباد سمیت ملک کے مختلف عللاقوں میں مسلمانوں نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں حیدرآباد میں ایک جلسہ منعقدہ کیا گیا جس سے مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ اس موقع پر تحریک مسلم شبّان کے صدر محمد مشتاق ملک نے اعلان کیا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں بابری مسجد کی یاد میں ایک ’یادگار‘ تعمیر کی جائے گی، جس کے ساتھ مختلف فلاحی ادارے بھی قائم کیے جائیں گے۔

مشتاق ملک 6 دسمبر کو منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جسے ہر سال بابری مسجد کی شہادت کے دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ “ہم نے طے کیا ہے کہ بابری مسجد کی ایک یادگار تعمیر کی جائے گی اور ساتھ ہی فلاحی مراکز بھی قائم ہوں گے۔ جلد ہی اس کی تعمیر کے طریقۂ کار، سنگ بنیاد کی تاریخ اور دیگر ضروری امور کا اعلان کیا جائے گا۔”

مشتاق ملک نے بابری مسجد کے نام پر بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بابر کے نام پر اعتراض اٹھانے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ ان کے مطابق مغل دور میں مذہبی بقائے باہمی کے کئی واقعات موجود ہیں، اس لیے نام کو تنازعہ کا ذریعہ بنانا صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “یہ سب سیاسی پروپیگنڈا ہے۔ اس سے ملک کو تقسیم کیا جا رہا ہے، بھائی چارہ توڑا جا رہا ہے، اور نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔”

واضح رہے کہ بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 کو ہندو تنظیموں کے شدت پسندوں نے منہدم کیا تھا، جس کے بعد ملک گیر سطح پر کشیدگی پھیلی۔ 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے جنوری 2024 میں افتتاح کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں