نقاب کھینچنے کے واقعہ کے بعد غیور مسلم خاتون ڈاکٹر نے ملازمت سے انکار کردیا، نتیش کمار پر تنقید کا طوفان

حیدرآباد (دکن فائلز) بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک سرکاری تقریب کے دوران مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعہ نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ متاثرہ ڈاکٹر نصرت پروین نے سرکاری ملازمت جوائن کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، وہ ان کے لیے شدید توہین کے مترادف تھا۔

یہ واقعہ پیر کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے ’سَمواَد‘ ہال میں پیش آیا، جہاں نتیش کمار 1283 ڈاکٹروں کو تقرری کے خطوط دے رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے AYUSH ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب نیچے کھینچتے ہوئے سوال کیا کہ یہ کیا ہے، جس پر تقریب میں موجود بعض افراد ہنستے دکھائی دیے۔

واقعہ کے بعد نصرت پروین کولکاتا چلی گئیں، جہاں وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مقیم ہیں۔ ان کے بھائی، جو کولکاتا کی ایک سرکاری لا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، نے بتایا کہ خاندان ڈاکٹر نصرت کو ملازمت جوائن کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر وہ ذہنی طور پر شدید دلبرداشتہ ہیں۔

اس واقعہ پر کانگریس، آر جے ڈی، سماجوادی پارٹی، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے نتیش کمار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ کسی بھی صورت میں کسی مسلمان خاتون کا نقاب ہٹانا ناقابلِ جواز ہے۔

ادھر پاکستان میں مقیم گینگسٹر شہزاد بھٹی نے ایک ویڈیو پیغام میں نتیش کمار کو دھمکی دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ڈاکٹر سے فوری معافی مانگیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں