حیدرآباد (دکن فائلز) 55 سالہ مسلم ٹرک ڈرائیور آزاد خان نے الزام لگایا ہے کہ راجستھان سے پونے جاتے ہوئے راستہ میں چند فرقہ پرست شدت پسندوں نے انہیں مذہب کی بنیاد پر گالی گلوچ کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے تاوان وصول کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ ٹرک میں نصب کیمرے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں حملہ آوروں کو مذہبی توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
خان کے مطابق 5 دسمبر کو سڑک کنارے کھڑے ایک ٹریکٹر کو دیکھ کر انہوں نے رفتار کم کی، جس کے بعد ایک کار میں سوار افراد نے ان کا راستہ روکا۔ ابتدا میں انہوں نے کار کو ٹکر مارنے کا الزام لگایا، پھر ٹرک میں گھس کر تشدد کیا، چابیاں چھین لیں اور زبردستی جنگل لے گئے۔
خان کا کہنا ہے کہ وہاں ان پر شدید تشدد کیا گیا، کان سے خون بہنے لگا اور ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ٹرک مالک کو فون کر کے پیسے مانگیں۔ شدت پسندوں نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ کار کا ہیڈلائٹ ٹوٹ گیا ہے، تاہم ویڈیو میں کسی نقصان کا ثبوت نہیں ملا۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2001880636714570034
بعد ازاں پولیس کے فون آنے پر حملہ آور خان کو سڑک کنارے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر جعلی تھا اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔


