بی جے پی لیڈر سی پی سنگھ کی اشتعال انگیزی: مسلم خاتون ڈاکٹر کو دہلی بم دھماکہ سے جوڑنے کی مذموم و ناپاک کوشش

حیدرآباد (دکن فائلز) بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچے جانے کے تنازع کے بعد اب جھارکھنڈ میں بی جے پی کے سینئر لیڈر سی پی سنگھ کے ایک بیان نے نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ اے بی پی لائیو کی رپورٹ کے مطابق سی پی سنگھ نے بغیر کسی ثبوت کے خاتون ڈاکٹر نصرت کو دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے بم دھماکے سے جوڑنے کی مذموم و ناپاک کوشش کی اور بے بنیاد الزام عائد کردیا۔

انہوں نے کہاکہ “مجھے تو لگتا ہے کہ اس ڈاکٹر کا دہلی میں لال قلعہ کے پاس ہوئے بم دھماکے سے کوئی کنکشن ہو سکتا ہے”۔ ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ کچھ شدت پسند عناصر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑنا ان کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔

کسی شہری، خاص طور پر ایک خاتون ڈاکٹر، پر بغیر ثبوت کے اس نوعیت کے الزامات لگانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرناک ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سی پی سنگھ کے بیان کے خلاف کارروائی کی جائے اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے۔ تاحال بی جے پی کی مرکزی قیادت نے اس بیان سے خود کو علانیہ طور پر الگ نہیں کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں