محمد اخلاق ماب لنچنگ کیس میں یوپی حکومت کو عدالت سے بڑا جھٹکا: انصاف پر سمجھوتہ ناقابلِ قبول، کورٹ کا دوٹوک مؤقف

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے دادری علاقے کے بسہڑا گاؤں میں سال 2015 میں پیش آئے محمد اخلاق ماب لنچنگ کیس میں ریاستی حکومت کو ایک بڑا قانونی اور اخلاقی دھچکا لگا ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالت (ایف ٹی سی) نے ریاستی حکومت اور استغاثہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی درخواست کو بے بنیاد، غیر اہم اور انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس سنگین قتل کیس میں مقدمہ بدستور جاری رہے گا اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی۔

نوئیڈا کے سورج پور میں واقع فاسٹ ٹریک عدالت نے منگل کو سماعت کے بعد حکم دیا کہ آئندہ مرحلے میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔ عدالت نے پولیس کمشنر اور ڈی سی پی گریٹر نوئیڈا کو یہ بھی ہدایت دی کہ اگر کسی گواہ کو سکیورٹی کی ضرورت ہو تو فوری اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ کیس کی اگلی سماعت 6 جنوری کو مقرر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر میں اتر پردیش حکومت نے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 321 کے تحت ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کر کے قتل کے ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی اجازت مانگی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس اقدام سے سماجی ہم آہنگی بحال ہوگی۔ تاہم ناقدین کے مطابق ایک ماب لنچنگ جیسے سنگین جرم میں مقدمہ واپس لینے کی کوشش نہ صرف انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ متاثرہ خاندان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے۔

حکومت نے اپنی عرضی میں یہ دلیل دی تھی کہ عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد ہے اور ملزمان کی تعداد وقت کے ساتھ بدلتی رہی۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محض بیانات میں تضاد کی بنیاد پر قتل جیسے سنگین جرم میں کارروائی روکنا انصاف کا مذاق ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں سچ کا تعین عدالتی ٹرائل کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے، نہ کہ انتظامی فیصلوں سے۔

مقتول محمد اخلاق کی اہلیہ اکرامن نے حکومت کے اس فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا ہے۔ ایڈوکیٹ عمر زمین کے ذریعے دائر کی گئی عرضی میں 26 اگست 2025 کے سرکاری حکم سمیت اے ڈی ایم، جوائنٹ ڈائریکٹر پراسیکیوشن اور ڈی جی سی کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس عرضی میں ریاستی حکومت سمیت 21 فریقین کو نامزد کیا گیا ہے۔ سرمائی تعطیلات کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈبل بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

قابلِ ذکر ہے کہ 28 ستمبر 2015 کو بسہڑا گاؤں میں افواہوں کی بنیاد پر محمد اخلاق کو ایک ہجوم نے بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ اس کیس میں 18 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا، جن میں سے 14 اس وقت ضمانت پر ہیں۔ یہ واقعہ پورے ملک میں ماب لنچنگ اور اقلیتی تحفظ کے سوال پر ایک سنگین مثال کے طور پر ابھرا تھا۔

قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی تنظیموں نے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ قانون کی بالادستی اور انصاف کی جیت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی حکومتیں سیاسی یا سماجی دباؤ میں آ کر ایسے سنگین مقدمات واپس لینے لگیں تو انصاف کا پورا نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں