حیدرآباد (دکن فائلز) جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک بار پھر تنازعہ کی زد میں ہے۔ بی اے (آنرز) سوشل ورک کے پہلے سمسٹر کے امتحان میں ایک متنازع سوال شامل کیے جانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے امتحانی پرچہ تیار کرنے والے پروفیسر کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 21 دسمبر کو منعقد ہونے والے امتحان میں 15 نمبر کا ایک سوال پوچھا گیا تھا: *ہندوستان میں مسلم اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر مناسب مثالوں کے ساتھ بحث کریں۔”
اس سوال کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی گودی میڈیا اور نام نہاد لیڈروں و شدت پسندوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ مختلف حلقوں سے شدید اعتراضات سامنے آئے، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوالیہ پرچہ یونیورسٹی کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق تیار کیا گیا تھا، جس میں شعبہ جاتی کمیٹی کی منظوری شامل ہوتی ہے۔ تاہم تنازع بڑھنے کے بعد انتظامیہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے داخلی جانچ کا فیصلہ کیا۔
متنازع سوال تیار کرنے والے پروفیسر وریندر بالاجی شاہرے، جو شعبۂ سوشل ورک سے وابستہ ہیں، کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔ قائم مقام رجسٹرار سی اے شیخ صفی اللہ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق، معطلی کے دوران پروفیسر کا ہیڈکوارٹر نئی دہلی رہے گا اور وہ اجازت کے بغیر شہر نہیں چھوڑ سکیں گے۔
یونیورسٹی نے کہا ہے کہ ایک داخلی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اس بات کی جانچ کرے گی کہ سوال کیسے تیار ہوا، کس سطح پر اس کی منظوری دی گئی اور اسے امتحان میں شامل کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔


