واہ یو پی پولیس واہ! ہندو طالبہ کی سالگرہ پارٹی میں شریک دو مسلم نوجوانوں کو مارا پیٹا گیا اور ان پر ہی امن میں خلل کا مقدمہ درج (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلہز) اتر پردیش کے ضلع بریلی میں ایک ہندو نرسنگ طالبہ کی سالگرہ کی تقریب اس وقت تنازعہ کا شکار ہو گئی جب بجرنگ دل کے کارکنان نے ایک کیفے میں گھس کر ’’لو جہاد‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہنگامہ کے بعد الٹا پولیس نے دو مسلم نوجوانوں اور کیفے کے ایک ملازم کو ’’امن عامہ میں خلل‘‘ (بریک آف پیس) کے الزام میں بک کر لیا، حالانکہ پولیس جانچ میں لو جہاد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے اور ہنگامہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی۔

پولیس کے مطابق نرسنگ کی طالبہ نے اپنی سالگرہ کے موقع پر اپنے کلاس فیلوز کو مدعو کیا تھا، جن میں چھ لڑکیاں اور چار لڑکے شامل تھے۔ یہ ایک چھوٹی سی نجی تقریب تھی جو بریلی کے ایک کیفے میں منعقد کی جا رہی تھی۔ تقریب شروع ہوئے چند ہی منٹ گزرے تھے کہ بجرنگ دل کے کارکنان وہاں پہنچ گئے اور مسلم مہمانوں پر ’’لو جہاد‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ شروع کر دیا۔

عینی شاہدین اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق، بجرنگ دل کے ارکان نے دو مسلم نوجوانوں سے بدسلوکی کی اور ایک نوجوان کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران جب سالگرہ منانے والی طالبہ نے مداخلت کی تو اس کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں پولیس کو لڑکی کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ وہ اپنے دوستوں کے حق میں احتجاج کر رہی تھی۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2005154612643279148

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اور بعد ازاں کی گئی تفتیش میں کسی بھی قسم کے غیر قانونی فعل یا لو جہاد سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس کے باوجود دو مسلم نوجوانوں اور کیفے کے ایک ملازم کے خلاف امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں کارروائی کی گئی، جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے والے بجرنگ دل کے کارکنان کو صرف منتشر ہونے کی ہدایت دے کر چھوڑ دیا گیا۔

واقعہ کے بعد اس کارروائی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ پولیس نے الزامات کو بے بنیاد قرار دینے کے باوجود انہی نوجوانوں کے خلاف کارروائی کی جن پر تشدد اور ہراسانی کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں