ترپورہ: مسجد میں شراب کی بوتلیں پھنک کر بے حرمتی، شرانگیز نعرے و دھمکیاں

حیدرآباد (دکن فائلز) ترپورہ کے ڈھلائی ضلع میں ایک مسجد کی مبینہ بے حرمتی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جسے مقامی مسلم سماج کو خوفزدہ کرنے اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی دانستہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منوچومانو روڈ پر واقع معیناما جامع مسجد میں نامعلوم شرپسندوں نے جمعرات، 24 دسمبر کو نہ صرف شراب کی بوتلیں رکھیں بلکہ مسجد کے کچھ حصوں میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی۔

مسجد کے امام کے مطابق، جب وہ وہاں پہنچے تو نماز کی جگہ میں شراب کی بوتلیں موجود تھیں۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مسجد کے بعض حصوں میں آگ لگائی گئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے آگ بروقت بجھا دی گئی، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امام نے بتایا کہ واقعے کے وقت مسجد میں کوئی موجود نہیں تھا کیونکہ وہ اور دیگر افراد پانی ساگر کے علاقے میں ایک پروگرام میں شریک تھے۔

مکتبوب میڈیا کے پاس موجود ایک دھمکی آمیز نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ یہ “پہلی اور آخری تنبیہ” ہے اور آئندہ “کچھ بڑا” ہونے والا ہے۔ نوٹ بنگالی زبان میں تحریر تھا، جس میں جملے درج تھے کہ “یہ تمہارے لیے تنبیہ ہے۔ ہوشیار رہو اور اچھی طرح سنو۔ چھوٹی سی غلطی بھی معاف نہیں کی جائے گی۔”

اس نوٹ کے ساتھ “جے ایس آر” کے نعرے، ایک پرچم اور بجرنگ دل کا حوالہ بھی پایا گیا۔ جائے وقوعہ سے کنگ فشر برانڈ کی شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں۔ واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسجد کے امام نے کہا، “یہ خوف اور بے امنی پھیلانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ مسجد میں شراب کی بوتلیں رکھنا ہمارے ایمان کی صریح توہین ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور علاقے میں تناؤ پیدا کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے میں عیسائی آبادی سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد بدھ مت اور ہندو برادری آتی ہے، جبکہ مسلمان اقلیت میں ہیں۔ “عیسائی اور بدھ مت کے لوگ ہمارے ساتھ ہم آہنگی، محبت اور احترام کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن بجرنگ دل جیسی تنظیمیں لوگوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔”

واقعہ کے بعد مسجد کمیٹی نے چومانو پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی، جس میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ 24 دسمبر کو دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے پیش آیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر آگ بروقت نہ بجھائی جاتی تو یہ ایک بڑے سانحے کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔

چومانو پولیس اسٹیشن کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے مکتوب میڈیا کو واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوعہ سے پرچم اور دھمکی آمیز نوٹ برآمد ہوئے ہیں۔ تاہم خبر لکھے جانے تک پولیس کی جانب سے کسی گرفتاری یا ٹھوس کارروائی کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی اور خوف کی فضا پائی جاتی ہے، جبکہ مقامی مسلم سماج نے پولیس سے فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں