حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی حکومت نے انسانی صحت کو لاحق سنگین خطرات کے پیشِ نظر درد اور بخار کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا نائمسولائیڈ (Nimesulide) کی 100 ملی گرام سے زائد مقدار پر مشتمل فوری اثر رکھنے والی تمام زبانی ادویات کی تیاری، فروخت اور تقسیم پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ پابندی ڈَرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کی دفعہ 26A کے تحت ڈرگز ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ سے مشاورت کے بعد لگائی گئی۔ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے 29 دسمبر 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 100 ملی گرام سے زائد مقدار میں نائمسولائیڈ کا استعمال انسانی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جبکہ اس کے محفوظ متبادل دستیاب ہیں۔
نائمسولائیڈ ایک نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلامیٹری دوا (NSAID) ہے، جو عالمی سطح پر جگر کو شدید نقصان پہنچانے کے خدشات کے باعث طویل عرصے سے زیرِ تنقید رہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق زیادہ مقدار میں اس دوا کے استعمال سے شدید جگر کی خرابی، حتیٰ کہ جان لیوا صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق یہ پابندی صرف انسانی استعمال کے لیے تیار کردہ ہائی ڈوز مصنوعات پر لاگو ہوگی، جبکہ کم مقدار والی ادویات اور دیگر متبادل علاج بدستور دستیاب رہیں گے۔ دوا ساز کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ بیچز کی پیداوار بند کریں اور مارکیٹ سے واپس لیں۔
تلنگانہ ڈرگز کنٹرول ایڈمنسٹریشن (TDCA) نے بھی مرکزی ہدایت کے بعد ریاست میں فوری طور پر 100 ملی گرام سے زائد نائمسولائیڈ پر پابندی نافذ کر دی ہے۔ عوام کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس دوا کو نہ خریدیں، نہ ذخیرہ کریں اور اگر کہیں فروخت ہوتی نظر آئے تو قریبی ڈرگز انسپکٹر کو اطلاع دیں۔
نائمسولائیڈ 1995 میں ہندوستان میں متعارف ہوئی تھی اور سر درد، جوڑوں کے درد، ماہواری، بخار اور سرجری کے بعد درد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، تاہم امریکہ، برطانیہ، کناڈا، آسٹریلیا اور جاپان جیسے ممالک میں اسے کبھی منظوری نہیں ملی۔


