پونے بم دھماکہ کیس کے ملزم اسلم شبیر شیخ فائرنگ میں جاں بحق

حیدرآباد (دکن فائلز) 2012 میں پونے کے جنگلی مہاراج روڈ (جے ایم روڈ) پر ہونے والے سیریل بم دھماکوں کے کیس میں ملزم اسلم شبیر شیخ عرف بنٹی جہانگیر دار کو چہارشنبہ کی دوپہر مہاراشٹر کے اہلیانگر ضلع کے شری رام پور شہر میں نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق 52 سالہ جہانگیر دار، جو فی الحال ضمانت پر تھے، چہارشنبہ کو تقریباً دو بجکر پندرہ منٹ پر ایک شخص کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد شری رام پور کے ایک قبرستان سے دو پہیہ گاڑی پر نکل رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار دو حملہ آوروں نے ان پر دو پستولوں سے فائرنگ کر دی۔ گولیاں لگنے سے وہ موقع پر ہی زمین پر گر پڑے جبکہ حملہ آور فرار ہو گئے۔

جہانگیر دار کو پہلے شری رام پور کے سکھر کامگار اسپتال لے جایا گیا، بعد ازاں ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اہلیانگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سومناتھ گھارگے نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی شناخت ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس مختلف زاویوں سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

پولیس نے شری رام پور تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے دوران دو مشتبہ افراد اور ان کی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کی دھندلی تصاویر حاصل ہوئی ہیں۔ ملزمان کی تلاش کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق بنٹی جہانگیر دار کے خلاف 18 مقدمات درج تھے۔ 2006 میں انہیں مبینہ طور پر فوجی معلومات افشا کرنے کے الزام میں آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ جہانگیر دار کو جنوری 2013 میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے 2012 کے پونے جے ایم روڈ بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا، جن میں ایک شخص زخمی ہوا تھا۔

اے ٹی ایس کے مطابق یہ دھماکے انڈین مجاہدین کے مفرور شدت پسند ریاض بھٹکل کی ہدایت پر کیے گئے تھے، تاکہ یرواڈا جیل میں قتیل صدیقی کے قتل کا بدلہ لیا جا سکے۔ 2015 میں بمبئی ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت منظور کی تھی، تاہم شرائط کی خلاف ورزی پر 2019 میں دوبارہ گرفتاری عمل میں آئی۔ بعد ازاں جنوری 2023 میں انہیں دوبارہ ضمانت مل گئی تھی۔ بم دھماکہ کیس کا مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے اور گواہوں کے بیانات درج کیے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں