حیدرآباد (دکن فائلز) دکن کی تہذیب، تاریخ اور وقار کی امین موسیٰ ندی ایک بار پھر حیدرآباد کی شناخت بننے جا رہی ہے۔ شہر کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی موسیٰ ندی کی بحالی اور ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کے لیے تلنگانہ حکومت نے مکمل سنجیدگی کے ساتھ قدم آگے بڑھا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے آج اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ 31 مارچ تک منصوبے کے تخمینے مکمل کر کے ٹینڈرز طلب کیے جائیں گے، تاکہ حیدرآباد کو ایک بار پھر قدرت، تہذیب اور جدید ترقی کا حسین امتزاج بنایا جا سکے۔
اسمبلی میں سوال و جواب کے دوران وزیر اعلیٰ نے موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ سے متعلق حکومت کے جامع وژن اور تاریخی منصوبے کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے اس عظیم منصوبے کے لیے اصولی طور پر 4 ہزار کروڑ روپے کے قرض کی منظوری دے دی ہے اور مرکزی حکومت سے بھی ضروری اجازتیں حاصل ہو چکی ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق اس منصوبے کے تحت گوداوری ندی سے 20 ٹی ایم سی پانی حیدرآباد لایا جائے گا، جس میں سے 15 ٹی ایم سی شہر کی پینے کے پانی کی ضروریات کے لیے مختص ہوگا جبکہ باقی 5 ٹی ایم سی صاف شدہ پانی مسلسل موسیٰ ندی میں بہایا جائے گا۔ اس سے نہ صرف ندی کا وجود بحال ہوگا بلکہ شہر کے ماحول اور صحت عامہ میں بھی انقلابی بہتری آئے گی۔
ایلویٹیڈ کاریڈور اور گاندھی سروور:
موسیٰ کے کنارے گنڈی پیٹ سے گواریلی تک 55 کلومیٹر طویل ایلیویٹیڈ کاریڈور تعمیر کیا جائے گا، جو جدید شہری ٹرانسپورٹ اور خوبصورت منظرنامے کا حسین نمونہ ہوگا۔ اسی طرح باپو گھاٹ کے مقام پر موسیٰ اور عیسیٰ ندیوں کے سنگم پر ’V‘ شکل میں ’گاندھی سروور‘ تعمیر کیا جائے گا، جہاں دنیا کا بلند ترین مہاتما گاندھی کا مجسمہ نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ مقام نہ صرف سیاحتی مرکز ہوگا بلکہ امن، عدم تشدد اور ہندوستانی اقدار کی عالمی علامت بنے گا۔
نظام دور کی یادیں، مستقبل کا خواب:
وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ نظام کے دور میں موسیٰ کے کنارے شاندار ترقی ہوئی تھی اور 1908 کے تباہ کن سیلاب کے بعد عثمان ساگر اور حمایت ساگر جیسے عظیم آبی ذخائر تعمیر کیے گئے۔ اسی تاریخی بصیرت اور وژن کو زندہ کرتے ہوئے حکومت موسیٰ کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کے لیے پرعزم ہے۔
مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی حسن:
اس منصوبے میں صرف انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ گنگا جمنی تہذیب کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ منچیریول کے مقام پر قدیم شیو مندر کی ترقی کے ساتھ ساتھ موسیٰ کے کنارے گردوارہ، مسجد اور چرچ کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے، تاکہ حیدرآباد کی مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
غریبوں کا تحفظ، ماحول دوست حیدرآباد:
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ موسیٰ کے اطراف رہنے والے غریب اور کمزور طبقات کو بے گھر نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں بہتر، محفوظ اور باعزت رہائش فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا مقصد حیدرآباد کو ایک ماحول دوست، صحت مند اور عالمی معیار کا شہر بنانا ہے، جہاں ترقی اور فطرت ایک ساتھ سانس لے سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ماہر کنسلٹنسی اداروں کے ذریعہ ڈی پی آر (تفصیلی منصوبہ رپورٹ) تیار کی جا رہی ہے، جسے مکمل ہونے کے بعد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تاکہ تمام اراکین کی تجاویز شامل کر کے اس تاریخی منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
موسیٰ ندی کی یہ نشاۃِ ثانیہ صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ حیدرآباد کی روح کو زندہ کرنے کا عہد ہے، ایک ایسا عہد جو شہر کو ماضی کی عظمت، حال کی ضرورت اور مستقبل کے خواب سے جوڑتا ہے۔


