نوجوانوں میں اچانک اموات تشویشناک مسئلہ: ایمس-آئی سی ایم آر کی تحقیق میں چونکا دینے والے انکشافات

حیدرآباد (دکن فائلز) نوجوانوں میں اچانک موت (Sudden Death) ایک سنگین عوامی صحت مسئلے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی جانب سے کی گئی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اچانک اموات کے 50 فیصد سے زائد واقعات 18 سے 45 سال کی عمر کے افراد میں پیش آئے، جن میں مردوں کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تحقیق انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ میں شائع ہوئی ہے، جس میں 2,214 پوسٹ مارٹم کیسز میں سے 180 اچانک اموات کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق بیشتر اموات کی وجہ دل کی پوشیدہ بیماریاں تھیں، جن میں پیدائشی دل کے نقائص، دل کے عضلات کی ساختی خرابی (کارڈیو مایوپیتھی) اور برقی نظام کی خرابیاں شامل ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ’اچانک موت‘ اس موت کو کہا جاتا ہے جو علامات کے آغاز کے ایک گھنٹے کے اندر (اگر واقعہ دیکھا گیا ہو) یا آخری بار زندہ دیکھے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر واقع ہو۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کئی متاثرین بظاہر صحت مند اور بغیر کسی علامت کے زندگی گزار رہے تھے، جس سے ابتدائی اسکریننگ اور احتیاطی جانچ کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے۔

مطالعے کے مطابق نوجوانوں میں اچانک اموات کے تقریباً دو تہائی کیسز دل سے متعلق وجوہات کی بنا پر ہوئے، جبکہ ایک تہائی غیر قلبی اسباب سے جڑے تھے۔ نوجوانوں میں arrhythmogenic disorders، hypertrophic cardiomyopathy اور پیدائشی قلبی نقائص زیادہ پائے گئے، جبکہ بڑی عمر کے افراد میں کورونری آرٹری ڈیزیز (CAD) سب سے بڑی وجہ بنی۔

اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 45 سال کے افراد میں اوسط عمر 33.6 سال تھی اور مرد خواتین کے مقابلے میں چار گنا زیادہ متاثر ہوئے۔ بیشتر اموات رات یا علی الصبح ہوئیں اور 55 فیصد واقعات گھروں میں پیش آئے۔ اچانک بے ہوشی، سینے میں درد، قے، سانس لینے میں دشواری اور بے چینی عام علامات میں شامل تھیں۔

دل کے معروف ماہر اور میدنتا ہاسپٹل کے چیئرمین ڈاکٹر نریش ترہان نے اس حوالے سے کہا کہ نوجوانوں میں اچانک موت کی بڑی وجہ دل کے پوشیدہ امراض ہیں، جن میں موروثی بیماریاں، برقی نظام کی خرابیاں اور ابتدائی عمر میں دل کی شریانوں کی بیماری شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر خاندان میں دل کی بیماری کی تاریخ ہو تو 25 سال کی عمر سے پہلے مکمل قلبی جانچ ضروری ہے۔

ڈاکٹر ترہان کے مطابق 30 سال کی عمر تک تمام افراد کو ایک مکمل ایگزیکٹو ہیلتھ چیک اپ ضرور کرانا چاہیے، جس سے کولیسٹرول، شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر خطرناک عوامل کی بروقت شناخت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسم کو بروقت جاننا ہی اچانک موت سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں