’تریپورہ میں پولیس کے سامنے مسلم بستیوں، دکانوں اور مسجد پر حملہ کرنے کا الزام‘: مکتوب میڈیا کی رپورٹ میں تشویشناک انکشافات

حیدرآباد (دکن فائلز) تریپورہ کے علاقے فتیق رائے میں ہفتہ کی صبح شدید کشیدگی اور خوف کی فضا قائم رہی، جہاں مقامی باشندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد نے چندہ وصولی کے دوران مسلم برادری کو ہراساں کیا، جس کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں میں گھروں، دکانوں اور ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔

مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سیدر پارا–شمل تلا اور کمارگھاٹ علاقوں میں پیش آنے والے ان واقعات نے مقامی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے، لیکن انہوں نے صورتحال پر قابو پانے میں مؤثر کردار ادا نہیں کیا، جس کے باعث تشدد پھیلتا چلا گیا۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور روزگار دونوں سے محروم ہو چکے ہیں، اور کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ایک مقامی باشندے نے بتایا، “لوگ سب کچھ کھو بیٹھے ہیں اور صدمے سے باہر نہیں آ پا رہے۔”

یہ واقعہ ریاستی وزیر اور مقامی ایم ایل اے سدھانشو داس کے حلقۂ انتخاب میں پیش آیا، جس پر انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاحال ضلع انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

ایک عینی شاہد نے مکتوب کو بتایا: “انہوں نے ہماری بستی پر حملہ کیا، مسجد، گھروں اور دکانوں کو آگ لگا دی۔ پولیس سامنے کھڑی تھی، لیکن کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کیا ہم اس لیے سزا پا رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں؟”

تشدد میں شدید زخمی ہونے والے مسیبیر علی نے، جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں، بتایا کہ حملے کا آغاز ان کی دکان پر چندے کے مطالبے سے ہوا۔ “میں نے کہا کہ میں پہلے چندہ دے چکا ہوں اور چند دن میں مزید دے دوں گا، لیکن وہ نہیں مانے اور فوراً پیسے مانگنے لگے۔ پھر مجھے بری طرح پیٹا گیا،” انہوں نے کہا۔

علی کے مطابق حملہ آوروں نے ان پر ہتھیار نما اشیاء سے وار کیا، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا “میرے اسپتال پہنچنے کے بعد انہوں نے میرے گھر کو آگ لگا دی۔ میرا ٹریکٹر اور زرعی سامان بھی جلا دیا گیا،”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اہلکار آگ لگائے جانے کے وقت موقع پر موجود تھے، مگر خاموش تماشائی بنے رہے۔ “تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایس پی اور ایس ڈی پی او تریپورہ اسٹیٹ رائفلز کے ساتھ آئے، تب فائرنگ ہوئی، مگر تب تک سب کچھ جل چکا تھا،”

مقامی عالم دین اور کمیونٹی لیڈر مولانا عبد المالک نے بتایا کہ تشدد صبح تقریباً 9 بجے شروع ہوا، جب مندر سے وابستہ افراد چندہ مانگنے آئے۔ “جب لوگوں نے سوال کیا یا کہا کہ وہ پہلے ہی چندہ دے چکے ہیں تو جھگڑا شروع ہو گیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے بڑے پیمانے پر تشدد میں بدل گیا،”

ان کے مطابق پانچ سے چھ گھروں، متعدد مسلم دکانوں، سیدر پارا مسجد اور حتیٰ کہ قبروں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ بائیکس، کاریں اور ایک ٹریکٹر مکمل طور پر جل گئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس کی تاخیر اور عدم مداخلت نے تشدد کو مزید سنگین بنا دیا۔ متاثرین اور سماجی کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ اقلیتی برادری کا نظامِ انصاف پر اعتماد بحال ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں