گورکھپور: 50 سال پرانی درگاہ حضرت سیّد شہید عبدالغنی پر بلڈوزر کارروائی

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے شہر گورکھپور میں اوور برج کے قریب واقع تقریباً 50 سال پرانی درگاہ حضرت سیّد شہید عبدالغنی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ نے منہدم کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی دوپہر 12 بجے کے بعد تین بلڈوزروں کی مدد سے مزار کے احاطے میں کارروائی کی گئی، جس کے دوران مرکزی گیٹ، باؤنڈری وال، تین دکانیں، مرکزی گنبد اور بیسمنٹ کا کچھ حصہ منہدم کر دیا گیا۔ بعد ازاں کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی، تاہم پیر کو دوبارہ انہدام کا عمل شروع ہوا۔

موقع پر اعلیٰ افسران کی نگرانی میں بھاری پولیس فورس تعینات رہی۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) عدالت کے حکم پر کی جا رہی ہے، جس نے زمین کو سرکاری ملکیت قرار دیتے ہوئے مزار کو قانونی طور پر تسلیم شدہ نہیں مانا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تجاوزات ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔

درگاہ انتظامیہ کمیٹی کے صدر راشد خان نے کہا کہ وہ عدالتی حکم کو تسلیم کرتے ہوئے انتظامیہ سے تعاون کر رہے ہیں۔ خزانچی معین الدین انصاری کے مطابق سامان ہٹانے کے لیے صرف 12 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا اور مزاحمت کی صورت میں سخت کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔ فی الحال علاقے میں صورتحال قابو میں ہے، تاہم واقعے نے مقامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں