حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ایک این جی او کی جانب سے مبینہ طور پر مساجد اور درگاہوں کے خلاف مسلسل عوامی مفاد کی عرضیاں (PILs) دائر کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور اسے عدالتی عمل کے صریح غلط استعمال سے تعبیر کیا۔
چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سیو انڈیا فاؤنڈیشن نامی این جی او کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے تقریباً ہر دوسرے دن ایک جیسی نوعیت کی عرضیاں لائی جا رہی ہیں، جو نہ صرف پریشان کن ہیں بلکہ PIL کے دائرہ اختیار کا غلط فائدہ اٹھانے کے مترادف ہیں۔
عدالت نے گرین پارک علاقے میں ایک مسجد کے خلاف مبینہ تجاوزات سے متعلق عرضی کی سماعت کے آغاز میں ہی سخت ریمارکس دیے۔ چیف جسٹس نے زبانی طور پر کہاکہ “یہ عوامی مفاد کی عرضیوں کا کھلا غلط استعمال ہے۔ کیا آپ کو سماج میں صرف ایک ہی برائی نظر آتی ہے؟”
بینچ نے کہا کہ عدالت اس بات کو سمجھتی ہے کہ ڈی ڈی اے، ایم سی ڈی، نیشنل ٹاسک فورس یا پولیس جیسے اداروں کی جانب سے تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن ایک ہی نوعیت کی عرضیاں بار بار دائر کرنا کسی طور جائز نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انسانیت کی خدمت کے اور بھی کئی راستے ہیں اور ایک ہی شخص یا ادارے کی جانب سے مسلسل ایسی PILs دائر کرنے کے رجحان پر لگام لگانے کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس نے این جی او کے وکیل سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ “کیا آپ کو صرف ایک ہی قسم کی تجاوزات دکھائی دیتی ہیں؟ کیا آپ کو وہ لوگ نظر نہیں آتے جنہیں صاف پانی میسر نہیں، جو بھوک سے دوچار ہیں؟ کیا آپ کا مقصد گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کرانا ہے؟ ایسی عرضیاں ہمیں سخت پریشان کرتی ہیں۔”
دہلی وقف بورڈ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ سنجے گھوش نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ مسجد ایک نوٹیفائیڈ مذہبی ڈھانچہ ہے اور زمین کی حد بندی کے عمل میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (DDA) بھی شامل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مذکورہ این جی او کی جانب سے بار بار ایک خاص طبقے کی مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے اس کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔
دہلی حکومت کی جانب سے وکیل سمیَر وششٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی حکام کے مطابق یہ تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ این جی او کے وکیل اومیش چندر شرما نے کہا کہ شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسی این جی او کو اس سے قبل بھی ایک اور بنچ کی جانب سے اسی نوعیت کی درخواستوں پر تنبیہ کی جا چکی ہے، جہاں اس کے طرزِ عمل کو مذہبی بنیادوں پر مبنی قرار دیا گیا تھا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے معاملے کی مزید سماعت کے لیے 21 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی، تاہم واضح الفاظ میں یہ پیغام دے دیا کہ عوامی مفاد کی عرضیوں کو بلاوجہ، یکطرفہ اور مخصوص مذہبی مقامات کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔


