مسلم لڑکی کو حجاب پہننے پر امتحانی مرکز میں داخلہ سے روک دیا گیا! انتظامیہ کی ہَٹ دَھرمی سے علیشہ کا ایک سال برباد

حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان کے شہر کوٹا میں ریٹ مینز لیول-2 اساتذہ بھرتی امتحان کے دوسرے دن ایک مسلم لڑکی کو حجاب پہننے پر امتحان مرکز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا! یہ الزام علیشہ نے لگائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بوندی ضلع کی رہنے والی مسلم امیدوارہ علیشہ بتایا کہ ’انہیں صرف حجاب پہننے کی وجہ سے امتحان مرکز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے باعث وہ امتحان نہیں دے سکیں‘۔ اس واقعہ کے بعد امیدوارہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ راجستھان کے وزیر اعلیٰ سے انصاف کی اپیل کررہی ہیں۔

یہ واقعہ کوٹا کے مہاویر نگر ایکسٹینشن میں واقع تلک سینئر سیکنڈری اسکول کے امتحان مرکز پر پیش آیا، جہاں علیشہ 18 جنوری کو دوپہر 3 بجے سے 5:30 بجے تک ہونے والے امتحان میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔ امیدوارہ کے مطابق وہ وقت پر مرکز پہنچ گئیں، دستاویزات کی جانچ بھی مکمل ہو گئی، یہاں تک کہ خواتین سکیورٹی اہلکاروں نے حجاب کھول کر مکمل تلاشی بھی لی، لیکن اس کے باوجود انہیں امتحان ہال میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

علیشہ نے این ڈی ٹی وی کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہاکہ “اتنے بچوں کے سامنے سر کھول کر امتحان دینا میرے لیے ذلت آمیز تھا۔ یہ صرف ایک امتحان نہیں بلکہ میرے مان، عزت اور خودداری کا سوال تھا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایڈمٹ کارڈ پر لگی تصویر بھی حجاب میں ہے اور وہ اس سے قبل راجستھان پبلک سروس کمیشن اور راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ کے تحت ہونے والے کئی امتحانات حجاب پہن کر دے چکی ہیں، جہاں کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔

امیدوارہ کا کہنا ہے کہ بورڈ کی تحریری گائیڈ لائنز میں دوپٹہ یا چنّی پہن کر امتحان دینے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اس امتحان مرکز پر تحریری قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے زبانی احکامات نافذ کیے گئے۔ علیشہ کے مطابق وہ دوپہر ایک بجے سے لے کر دو بجے تک مرکز کے انچارج سے درخواست کرتی رہیں، لیکن انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے ان کی ایک سال سے زیادہ کی محنت ضائع ہو گئی۔

دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ نے امیدوارہ کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کوٹا کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ وریندر یادو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امیدوارہ کو امتحانی گائیڈ لائنز کے مطابق ہی روکا گیا۔ ان کے مطابق، “اسٹاف سلیکشن بورڈ کی ہدایات کے تحت ایسے اسکارف یا حجاب، جن سے سر اور کان مکمل طور پر ڈھکے ہوں، پہن کر امتحان دینے کی اجازت نہیں ہے۔ امیدوارہ سے کہا گیا تھا کہ وہ چہرہ اور سر کا مکمل احاطہ ہٹا دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، جس کے بعد انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔”

انتظامیہ کے مطابق اس معاملے پر امیدوارہ اور امتحان مرکز کے سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک بحث ہوتی رہی۔ بعض دیگر خواتین امیدواروں نے بھی اس بات پر اعتراض کیا کہ اگر ان کے دوپٹے یا چنّیاں اتروائی گئی ہیں تو سب کے لیے ایک جیسے قواعد لاگو ہونے چاہئیں۔

کوٹا کا یہ واقعہ ایک بار پھر ملک بھر میں امتحانی ضوابط اور مذہبی لباس کے سوال پر بحث کا سبب بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلم لڑکی کو امتحان میں داخل نہ ہونے دینے کے عمل پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انتظامیہ نے ایک لڑکی کا سال تباہ کردیا جبکہ ملک کے وزیراعظم بیٹی پڑھاؤ، بیٹی بچاؤ کی بات کرتے ہیں لیکن ان کی حکومت میں مسلم بیٹیوں کو پڑھنے سے روکا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں