ایس آئی آر نوٹس کے خوف میں مبتلا بزرگ شخص جاں بحق! باپ کی لاش گھر چھوڑ کر سماعت میں جانے پر بیٹے مجبور ہوگئے

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کے ضلع نارتھ 24 پرگنہ کے ہڑوا علاقہ کے پوربا مدرٹالا گاؤں میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں 65 سالہ ساحر علی منڈل مبینہ طور پر اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) سماعت کے نوٹس کے خوف کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

اہل خانہ کے مطابق ساحر علی اس وقت شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہو گئے تھے، جب ان کے خاندان کے پانچ افراد دو بیٹے، دو بہوئیں اور ایک دیگر رشتہ دار کو ووٹر لسٹ میں مبینہ تضادات کے باعث ایس آئی آر سماعت کے نوٹس موصول ہوئے۔

خاندان کا کہنا ہے کہ ووٹنگ حق چھن جانے کے اندیشہ نے بزرگ کو اس قدر خوفزدہ کر دیا کہ انہیں شدید گھبراہٹ لاحق رہی۔ چہارشنبہ کی صبح انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئے۔ دلخراش پہلو یہ رہا کہ ساحر علی کے دو بیٹوں کو والد کی لاش گھر میں چھوڑ کر مجبوری کے تحت ایس آئی آر سماعت میں شرکت کے لیے جانا پڑا۔ سماعت سے واپسی کے بعد ہی مرحوم کی تدفین کی جا سکی۔

پڑوسی فیروز منڈل نے کہا، “ہم بار بار انہیں دلاسہ دیتے رہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مگر خوف ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا۔ الیکشن کمیشن ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔ اب یہ صاف لگتا ہے کہ کمیشن بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اگر ایس آئی آر عمل بند نہ ہوا تو ہمیں تحریک شروع کرنی پڑے گی۔”

واقعہ کے بعد ترنمول کانگریس کے باسی رہٹ نارتھ اسمبلی حلقہ کے انچارج اے ٹی ایم عبداللہ اور ہڑوا بلاک کے صدر شفیق احمد مرحوم کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔ ترنمول کانگریس نے اس موت کا براہِ راست ذمہ دار الیکشن کمیشن کو ٹھہرایا ہے، جبکہ بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ ٹی ایم سی سیاسی فائدے کے لیے واقعے کو استعمال کر رہی ہے اور عوام میں خوف پھیلا رہی ہے۔ اس معاملے پر ہڑوا اسمبلی حلقے میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں