حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی ہائی کورٹ نے ترکمان گیٹ کے قریب فیضِ الٰہی مسجد کے پاس انہدامی کارروائی کے دوران ہوئے احتجاج اور پتھراؤ کے معاملے میں گرفتار ملزم عبیداللہ کو دی گئی ضمانت منسوخ کر دی ہے۔ جسٹس پرتیک جالن نے قرار دیا کہ نچلی عدالت کی جانب سے 20 جنوری کو دی گئی ضمانت کا حکم مختصر، غیر معقول اور بغیر کسی ٹھوس جواز کے تھا، جو ایک غیر معمولی صورتحال میں عدالتی مداخلت کو ضروری بناتا ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ ضمانت دیتے وقت استغاثہ کے دلائل، شواہد اور قانونی اصولوں پر سرسری غور تک نہیں کیا گیا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ عدالت نے معاملہ دوبارہ سیشن کورٹ کو بھیجتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ 23 جنوری کو ضمانت کی درخواست پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔
استغاثہ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور شریکِ ملزم کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبیداللہ اُس ہجوم کا حصہ تھا جس نے پولیس اور میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پولیس کارروائی میں رکاوٹ ڈالی۔
پولیس کے مطابق 6 اور 7 جنوری کی درمیانی شب سوشل میڈیا پر افواہ پھیلائی گئی کہ ترکمان گیٹ کے قریب واقع مسجد کو منہدم کیا جا رہا ہے، جس کے بعد 150 سے 200 افراد جمع ہو گئے اور تشدد پر اتر آئے۔ اس دوران شیشے کی بوتلیں اور پتھر پھینکے گئے، جس سے چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں علاقے کے تھانہ انچارج بھی شامل تھے۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عبیداللہ کے خلاف کارروائی محض ایک فشنگ ایکسرسائز” ہے اور اس پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔


