حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے سنکرانتی تہوار کے موقع پر عنبرپیٹ کے بتھکما کنٹہ میں مبینہ طور پر دی گئی تقریر پر حیڈرا (HYDRAA) کمشنر اے وی رنگناتھ، آئی پی ایس کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ نیوز میٹر کی رپورٹ کی مطابق عدالت نے واضح ریمارکس دیے کہ کمشنر عوام کو خوش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر عدالت کے ساتھ کھیل نہیں کر سکتے۔
یہ ریمارکس جسٹس موسمی بھٹاچاریہ اور جسٹس بی آر مدھوسودھن راؤ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جمعہ کے روز ایک توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران دیے، جس میں حیڈرا کمشنر پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سنکرانتی کے دوران پتنگ میلے میں خطاب کرتے ہوئے کمشنر نے کہا تھا کہ بتھکما کنٹہ جھیل کو دیگر جھیلوں کی طرز پر ترقی دی جائے گی، حالانکہ یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور اس پر اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے احکامات جاری ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے کمشنر کی مکمل تقریر پر مشتمل ایک پین ڈرائیو عدالت کے حوالے کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ خطاب براہِ راست عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے پین ڈرائیو کو ریکارڈ پر لے لیا اور معاملے کی جانچ کا فیصلہ کیا۔
سماعت کے دوران جسٹس موسومی بھٹاچاریہ نے حیڈرا کمشنر کے وکیل سوروپ اوریلا سے کہا، “کمشنر عوام کے سامنے بیانات دے سکتے ہیں، مگر عدالت کے ساتھ ایسا رویہ قابلِ قبول نہیں۔”
قابلِ ذکر ہے کہ کمشنر 5 دسمبر 2025 کو اسی کیس میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے اور بتھکما کنٹہ کی متنازعہ اراضی پر تعمیراتی سرگرمیوں پر غیر مشروط معافی بھی مانگی تھی۔ اس کے باوجود عدالت کی ہدایت کے بعد عوامی خطاب نے عدالت کو سخت ناراض کر دیا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کی زمین پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، راستے اور نکاسی کے راستے بنائے گئے، جو عدالتی پابندیوں کے سراسر خلاف ہیں۔ توہینِ عدالت کیس کی مزید سماعت 6 فروری 2026 تک ملتوی کر دی گئی ہے اور کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگلی تاریخ تک اپنا تحریری جواب داخل کریں۔


