دین و شریعت کی پیروی کےلئے قرآن مجید کے بعد حدیث کو حجت مان کر اس پر عمل کرنا نہایت اہم اور ضروری ہے: المعہد العالی الاسلامی میں اجازت حدیث کی مجلس سے مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی کا خطاب

حیدراباد (پریس ریلیز) قران اللہ کا کلام ہے اور صحت واستناد میں سب فائق ہے لیکن حکم شریعت کی تفصیلات احادیث نبویہ میں زیادہ ملتی ہیں، اور خود قران کے معانی ومفہوم کی وضاحت بھی احادیث نبویہ سے ہی ممکن ہے، گمراہ فرقوں نے ہمیشہ اپنی مانی تاویلات کے لیے احادیث نبوی کو ماننے سے اجتناب کیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ماضی سے لے کر تاحال تمام باطل نظریات والے فرقوں نے صرف قرآن کا نعرہ لگایا اور احادیث سے دامن چھڑایا ہے۔ان خیالات کا اظہار فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اج المعہد العالی الاسلامی کے سمینار ہال اجازت حدیث کے ایک اجلاس میں کیا۔

آپ نے مزید فرمایا کہ بھلے آپ کا تعلق کسی بھی فن سے ہو، فقہ، تفسیر وغیرہ لیکن حدیث سے آپ کا مسلسل اشتغال رہنا چاہیے، چاہے یہ کتب احادیث کے مطالعہ کی شکل میں ہو، یا پھر تدریس حدیث کے ذریعہ ہو، یا عوامی درس حدیث کے ذریعہ، جو لوگ احادیث سے اشتغال رکھتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے لیے تروتازگی کی خوش خبری دی ہے اور یہ بات آموزدہ ہے کہ احادیث سے اشتغال رکھنے والوں کی عمر لمبی ہوتی ہے اور عمر کے آخری حصے میں بھی ان کی صحت بہتر رہتی ہے، وہ ہوش وحواس میں رہتے ہیں۔

آپ نے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے قبل صحاح ستہ کا اہتمام نہیں تھا مشارق الانوار جو مشکوۃ کے طرز کی کتاب تھی وہی علم حدیث کی آخری کتاب سمجھی جاتی تھی، لیکن شاہ ولی اللہ کا فیض ہے کہ ہندوستان میں صحاح ستہ کا درس جاری ہوا، اور برصغیر کے علماء ومحدثین کی محنت ہے کہ درس میں صحاح ستہ کی تکمیل ہوتی ہے، ورنہ عرب ممالک میں بھی پوری کتب حدیث کا درس نہیں ہوتا، کچھ منتخب ابواب پڑھائے جاتے ہیں، ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے، عرب کے اہل علم اس نعمت سے محرومی کا شکوہ کرتے ہیں۔

آپ نے اس محفل میں طلبہ المعہد العالی الاسلامی ، مدرسہ عبداللہ بن مسعود اور مدرسہ صفہ لوناواڑہ گجرات کے طلبہ کو احادیث مسلسل کی تین واسطوں سے اجازت دی ہے، ایک حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب دوسرے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب اور تیسرے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمھم اللہ تعالیٰ ، آپ نے صحاح ستہ کی بھی اجازت دی، آپ کی سند ہندوستان کی سندوں میں عالی شمار ہوتی ہے، ایک تو حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحب کے واسطہ سے اور دوسرے حضرت مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب کے واسطے سے، اس پروگرام میں معہد کے شعبہ دوم کے طلبہ کو آپ کی تضنیف جدید فقہی مسائل کا سیٹ دیا گیا اور سال اول کے طلبہ کو ‘احادیث الرسول عصر حاضر کے پس منظر میں’کا سیٹ دیا گیا۔آپ کی دعا پر یہ مجلس ختم ہوئی، نظامت مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی نائب ناظم المعہد العالی الاسلامی نے کی ، اجلاس میں المعہد العالی الاسلامی کے طلبہ، مدرسہ عبداللہ بن مسعود کے طلبہ، مدرسہ صفہ گجرات کے طلبہ کے علاوہ اساتذہ معہد موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں