حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ کے شہر مسوری میں ہفتہ کی رات ایک شرمناک اور قابلِ مذمت واقعہ پیش آیا، جہاں عظیم پنجابی صوفی شاعر اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بابا بولے شاہ کے سو سال سے زائد قدیم مزار کو نامعلوم ملک دشمن عناصر نے توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔ ہندوتوا شدت پسند غنڈوں کے اس نفرت انگیز حملے میں مزار کے ساتھ موجود دو دیگر درگاہیں بھی مکمل طور پر منہدم کر دی گئیں۔
واقعہ کے بعد بابا بولے شاہ کمیٹی کے اراکین موقع پر پہنچے اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے صدر راجت اگروال نے اس واقعہ کو محض توڑ پھوڑ نہیں بلکہ مسوری کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بابا بولے شاہ محبت، انسانیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہیں، اور ان کے مزار پر حملہ دراصل انہی اقدار پر حملہ ہے۔
بابا بولے شاہ کا اصل مزار پاکستان کے قصور میں واقع ہے، جہاں دنیا بھر سے عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ مسوری میں قائم اس مزار پر بھی ہر مذہب کے ماننے والے دعا کے لیے آتے رہے ہیں، جو ہندوتوا شدت پسندوں کے لیے شاید ناقابلِ برداشت تھا۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل کچھ دائیں بازو کی تنظیموں نے مزار کی توسیع پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور سرکاری زمین پر تعمیر شدہ قرار دیا تھا۔ تاہم مزار کمیٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزار ایک نجی اسکول کی زمین پر قائم ہے، جس کی اجازت برسوں پہلے دی جا چکی تھی اور انتظامیہ کی تحقیقات میں کسی تجاوز کی تصدیق نہیں ہوئی۔
سابق میونسپل چیئرمین منموہن سنگھ نے واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسوری ہمیشہ بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت رہا ہے، اور ایسے واقعات شہر کی شبیہ کو داغدار کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مجرموں کی فوری شناخت کر کے سخت کارروائی کی جائے۔
بابا بولے شاہ کے عقیدت مندوں نے بھی شدید احتجاج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مجرموں کو جلد سزا نہ دی گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت کی سیاست اور ہندوتوا شدت پسندی نے اب روحانیت اور صوفی روایت کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جو انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
تاہم مسوری کے ایس ڈی ایم راہل آنند نے کہا کہ تاحال باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، البتہ مزار کے اطراف پولیس تعینات کر دی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ آخری اطلاع ملنے تک اس معاملہ میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ملک دشمن ہندوتوا شدت پسند عناصر کے خلاف کوئی سخت کاروائی کی جاتی ہے یا ہر بار کی طرح اس بار پھی معمولی دفعات کے تحت انہیں راحت دینے کی کوشش کی جائے گی۔


