رمضان 2026: روزوں کا دورانیہ کم رہے گا، مختلف ممالک میں اوقات کا تقابلی جائزہ

حیدرآباد (دکن فائلز) رمضان المبارک 2026 کی متوقع تاریخیں سامنے آ گئی ہیں، تاہم حتمی اعلان حسبِ روایت 29 شعبان کو چاند دیکھنے کے بعد کیا جائے گا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق اس بار رمضان کا آغاز موسمِ سرما کے اختتام اور بہار کے آغاز کے قریب ہوگا، جس کے باعث دنیا کے بیشتر حصوں میں روزے کا دورانیہ نسبتاً کم رہے گا۔

ہندوستان میں رمضان المبارک کے دوران روزے کا دورانیہ جغرافیائی محلِ وقوع اور موسم کی وجہ سے تقریباً 13 سے ساڑھے 13 گھنٹے کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ رمضان کے ابتدائی دنوں میں روزہ قریب 13 گھنٹے کا ہوگا، جو مہینے کے آخر تک بڑھ کر ساڑھے 13 گھنٹے تک پہنچ سکتا ہے۔

عالمی سطح پر دیکھا جائے تو مختلف ممالک میں روزے کے اوقات میں نمایاں فرق متوقع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ممالک میں رمضان کے آغاز پر دن نسبتاً چھوٹے ہوں گے۔ مصر میں روزے کا دورانیہ تقریباً 12 گھنٹے 40 منٹ سے شروع ہو کر اختتام تک تقریباً 13 گھنٹے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں بھی روزوں کا دورانیہ 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان رہنے کی توقع ہے، البتہ شہروں کے حساب سے معمولی فرق ہو سکتا ہے۔

یورپ کے ممالک، خصوصاً برطانیہ، جرمنی اور دیگر ممالک میں بلند عرضِ بلد کی وجہ سے روزے نسبتاً طویل ہوں گے، تاہم 2026 میں یہ دورانیہ ابھی انتہائی طویل سطح پر نہیں پہنچے گا۔ نیویارک میں رمضان کے آغاز پر روزہ تقریباً ساڑھے 12 گھنٹے کا ہوگا، جو مہینے کے آخر تک بڑھ کر 13 گھنٹے یا اس سے کچھ زائد ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خطِ استوا کے قریب واقع ممالک میں روزے کے اوقات نسبتاً مستحکم رہتے ہیں، جبکہ شمالی اور جنوبی عرضِ بلد میں موسمی تبدیلیوں کے باعث دن کی لمبائی میں زیادہ فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس طرح رمضان 2026 دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے نسبتاً آسان اور معتدل دورانیے کے روزوں کے ساتھ آنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں