اہم خبر: اکشردھام مندر حملہ کیس: عبدالرشید، محمد فاروق اور محمد یاسین باعزت بری — چھ سالہ قانونی جدوجہد کے بعد انصاف، مگر گرفتاری کے وقت چیخنے والا گودی میڈیا خاموش کیوں؟

حیدرآباد (دکن فائلز) اکشردھام مندر حملہ کیس میں ایک بار پھر یہ حقیقت عدالتی فیصلے کے ذریعہ سامنے آ گئی کہ محض شبہ، قیاس اور میڈیا ٹرائل انصاف کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ جمعیۃ علماء ہند کی مسلسل چھ سالہ قانونی جدوجہد کے نتیجے میں اس مقدمہ میں بعد میں گرفتار کیے گئے تین افراد عبدالرشید سلیمان اجمیری، محمد فاروق محمد حنیف شیخ اور محمد یاسین عرف یاسین بٹ کو احمد آباد کی خصوصی پوٹا عدالت نے باعزت بری کر دیا ہے۔

یہ وہی نام ہیں جنہیں نومبر 2017 میں گرفتاری کے وقت گودی میڈیا نے اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر “ماستر مائنڈ”، “خونخوار دہشت گرد”، “پاکستانی ایجنٹ” اور “لشکر طیبہ سے وابستہ” جیسے الزامات کے ساتھ گلا پھاڑ چیخ چیخ کر پیش کیا تھا۔ اس وقت ریٹنگ کی دوڑ میں سچ، ثبوت اور قانون سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ آج جب عدالت نے انہیں بے قصور قرار دیا ہے تو وہی اینکرز اور چینلز ایسی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

یہ مقدمہ احمد آباد کی خصوصی پوٹا عدالت میں زیرِ سماعت تھا، جہاں خصوصی جج ہیمانگ آر راؤل نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اکشردھام کیس میں ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمین کو بری کر چکی ہے۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ تینوں افراد کے خلاف بھی ریکارڈ پر کوئی نیا یا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، اس لیے انہیں بھی رہا کیا جاتا ہے۔

قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ عبدالرشید سلیمان اجمیری اور محمد فاروق محمد حنیف شیخ حملے کے وقت سعودی عرب کے شہر ریاض میں ملازمت کر رہے تھے، اس کے باوجود انہیں مفرور قرار دے دیا گیا۔ 2019 میں وطن واپسی پر کرائم برانچ نے انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ اس سے قبل ان کے بھائیوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں بعد ازاں سپریم کورٹ نے باعزت بری کر دیا۔

اس پورے قانونی معرکے میں جمعیۃ علماء ہند نے متاثرین کو مکمل قانونی امداد فراہم کی۔ تنظیم کے صدر مولانا ارشد مدنی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قرار دیا، تاہم اس تلخ حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ بے گناہ ہونے کے باوجود ان افراد کو انصاف کے لیے چھ سال کا طویل اور اذیت ناک انتظار کرنا پڑا۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اکشردھام حملے کے وقت یہ افراد موقعِ واردات پر موجود ہی نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں ملزم بنانا نہ صرف ان کی زندگیوں کو برباد کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ ہمارے نظامِ انصاف اور میڈیا کے کردار پر بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بے گناہ شہریوں کو محض شک، تعصب اور میڈیا ٹرائل کی بنیاد پر اس طرح کے کربناک تجربات سے نہیں گزرنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں