(تصویر: بشکریہ مسلم مرر
حیدرآباد (دکن فائلز) مدراس ہائی کورٹ کے جج جسٹس جی آر سوامی ناتھن ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئے ہیں، جب انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بقیہ عدالتی مدت میں سَناتن دھرم کو اپنے دل میں رکھیں گے۔ یہ بیان انہوں نے ہفتہ کے روز چنئی میں منعقدہ ’دھارا ڈیوائن ایوارڈز 2025‘ کی تقریب سے خطاب کے دوران دیا۔
ان کے اس بیان پر دلت تنظیموں، سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید اعتراض کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک حاضر سروس جج کا اس طرح مذہبی نظریہ کا اظہار کرنا آئینی اصولوں، خصوصاً سیکولرازم اور مساوات، کے منافی ہے۔ ڈی ایم کے کے ترجمان سروَنن انا دورائی نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی جج یہ کہے کہ قرآن یا بائبل اس کی رہنمائی کرے گی تو کیا وہ عہدہ پر برقرار رہ سکتا ہے؟
واضح رہے کہ جسٹس سوامی ناتھن ماضی میں بھی مذہب، ذات پات، سماجی انصاف اور دراوڑی سیاست سے متعلق اپنے بیانات کے سبب تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ اگست 2025 میں انڈیا بلاک کے ارکانِ پارلیمنٹ نے صدر جمہوریہ اور اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر ان پر جانبداری کے الزامات عائد کیے تھے، جبکہ بعد میں ان کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی پیش کی گئی۔
قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات عدلیہ کی غیر جانبداری اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، جو ایک کثیر مذہبی اور جمہوری ملک کے لیے نہایت تشویشناک امر ہے۔


