سیکولر ہندوستان کا وزیراعلیٰ ایسا ہونا چاہئے؟ ہیٹ اسپیچ کے شہنشاہ کہلانے پر فخر کا کیا اظہار، دھامی نے مسلمانوں کے ساتھ تعصب کو بتایا انصاف

حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ایک ایسے وقت میں شدید تنازع کو جنم دیا ہے جب انہیں انڈیا ہیٹ لیب کی تازہ رپورٹ میں سال 2025 کا سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والا سیاسی لیڈر قرار دیا گیا۔ حیران کن طور پر، وزیر اعلیٰ نے اس رپورٹ پر شرمندگی یا وضاحت کے بجائے فخر کا اظہار کیا اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی اقدامات کو ’’انصاف‘‘ سے تعبیر کرنے کی کوشش کی۔

یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقدہ ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دھامی نے کہا کہ اگر غیر قانونی دراندازی، جبری تبدیلیٔ مذہب اور نام نہاد ’’لو جہاد‘‘ جیسے بیانیوں پر بات کرنا ہیٹ اسپیچ کہلاتا ہے تو وہ اس لیبل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، انہوں نے نہ تو غیر قانونی دراندازی کے دعوؤں کے حق میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار پیش کیے اور نہ ہی کسی سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیا۔

مبصرین کے مطابق، دھامی کی تقریر ایک بار پھر ایک مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بنانے تک محدود رہی، جو ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کے شایانِ شان نہیں سمجھی جا رہی۔

انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق: سال 2025 میں دھامی کی 71 تقاریر کو نفرت انگیز قرار دیا گیا جبکہ ملک بھر میں 1,318 ہیٹ اسپیچ کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، ان میں سے 98 فیصد تقاریر مسلمانوں کے خلاف تھیں، تاہم 88 فیصد واقعات بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آئے۔ رپورٹ میں اس رجحان کو جمہوری اقدار اور اقلیتی حقوق کے لیے تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

انڈیا ہیٹ لیب نے واضح کیا ہے کہ وہ اقلیتی طبقات کے خلاف نفرت انگیزی کے واقعات پر کڑی نظر رکھے گی اور ذمہ دار سیاسی رہنماؤں کو جوابدہ بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

سیکولر ذہن رکھنے والے دانشوروں، سماجی کارکنوں اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس طرح کے بیانات سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور آئینی سیکولرازم کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق، اگر اقتدار میں بیٹھے افراد نفرت انگیز بیانیے کو جائز ٹھہرانے لگیں تو یہ جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں