حیدرآباد ) جمعیت علماء گریٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام جلسہ اصلاح معاشرہ و تقسیم انعامات بمقام روز گارڈن ساگر روڈ چمپاپیٹ حیدرآباد منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت استاد الاساتذہ حضرت مولانا محمد مصدق القاسمی صاحب دامت برکاتہم صدر جمعیت علماء گریٹر حیدرآباد نے فرمائی۔ حضرت مولانا سید نذیر احمد یونس صاحب قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ حافظ و قاری محمد یونس علی خان صاحب مدظلہ کی قرأت سے اجلاس کا آغا ہوا۔
ڈاکٹر حافظ محمد امام موسی اعظم ابراہیمی صاحب کا انگلش اور اردو میں خطاب ہوا، آپ نے اپنے خطاب کے اندر تمام طلباء کو بہت ہی پرجوش انداز میں مبارکباد پیش کی جمیعت علماء کی خدمات کو سراہا اور تمام طلباء کی حوصلہ افزائی وذہن سازی کی۔
حضرت مولانا محمد مصدق القاسمی صاحب دامت برکاتہم نے خطاب فرماتے ہوئے تمام طلباء و طالبات کو مبارکباد پیش کی، اور صحابہ کرام کی قربانیاں بیان کی، ماں باپ کو اپنی اولاد اور اپنے ماتحتوں کی کڑی نگرانی رکھنی چاہیے، اور ہمارے اس پروگرام کو منعقد کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارے بچے اور بچیوں میں صحابہ کرام سے محبت پیدا ہو کیونکہ ان سے سچا عقیدہ رکھنے کی ضرورت ہے اور خاص طور سے ماں باپ کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ ماشاء اللہ بہت اچھا مظاہرہ کیا اور والدین نے اپنے بچوں کو اس پروگرام میں شریک کرنے کے لیے جو کوششیں اور محنتیں کی وہ بہت ہی قابل قدر ہیں۔
حضرت مولانا عبید الرحمن صاحب ندوی قاسمی صاحب کا خطاب ہوا آپ نے والدین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ دنیاوی زندگی تو عارضی ہے اصل زندگی تو موت کے بعد کی ہے اس کی تیاری کے لیے خود کو آخرت کی طرف متوجہ رکھنا اور اپنے اولاد کو علم دین اور صحابہ کرام کی سیرت سے واقف کرا کر ان کی زندگی کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرانا یہ ہر والدین کی ذمہ داری ہے، اور اپنے خطاب کے اخر میں شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والے بےجارسومات دیر رات تک جاگنا اور خلاف سنت معمولات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے تمام تر لا یعنی چیزوں سے اپنے آپ کو باز رکھنے اور دیر رات تک شادی بیاہ کے پروگرام منعقد کرنے سے پرہیز کرنے کی جانب توجہ دلائی۔
پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمن صاحب مفتاحی دامت برکاتہم کا خطاب عالی ہوا، آپ نے اپنے خطاب میں حسن سیرت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے حضرت شاہ صوفی صاحب کا کہا ہوا ایک شعر سنایا کہ حسن صورت چند روزہ حسن سیرت مستقل اس سے خوش ہوتی ہیں آنکھیں اس سے خوش ہوتا ہے دل اللہ کے یہاں انسان کی قیمت سیرت سے ہے صورت سے نہیں اس لیے کہ سورت تو اللہ نے بنائی ہے اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے اصل سیرت ہے صورت نہیں ہے عام طور سے سورت کی طرف توجہ کی جاتی ہے سورت کسی طرح کسی بھی رہے لیکن اگر اخلاق اور سیرت زندگی میں نہیں رہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں آدمی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔
حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب صدر صفا بیت المال کا خطاب ہوا آپ نے بھی جمعیت علماء کی خدمات بالخصوص صحابہ کرام کوئز پروگرام کو سراہا، طلبہ کرام کو مبارکباد پیش کی اور والدین کو اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنے ان پر تشدد اور جبر کرنے کی بجائے عفو و درگزر سے کام لینے کی جانب توجہ دلائی اور بالخصوص جذبات پر قابو رکھ کر بچوں کی تربیت کرنے کی جانب توجہ دلائی۔
حضرت مولانا مفتی راشد صاحب اعظمی نائب محترم دارالعلوم دیوبند کا خطاب ہوا اپ نے اپنے خطاب میں طلبہ اوران کے والدین کو بھی مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے اپنے اولاد کو دینی تعلیم اور صحابہ کرام کی سیرت سے واقف کرا کر ان کے اخرت کو سنوارنے کی کوشش کی مزید اپ نے اپنی خطاب میں فرمایا کہ صحابہ کرام کی زندگی یہ ہمارے لیے باعث تقلید ہے صحابہ کرام ہی دین کی بنیاد اور اصول ہے صحابہ کرام کے بغیر قران حدیث فقہ کسی بھی علم کا تصور ناممکن ہے صحابہ کرام ہی وہ ہستیاں ہیں جن کے قربانیوں اور جن کی محنتوں اور کوششوں سے علم دین ہم تک پہنچا ہے لہذا صحابہ کرام کی سیرت کو پڑھنا اور ان کی سیرت کے مطابق زندگی گزارنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے،
جمعیت علماء کے حرکیاتی قائد محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب مدظلہ نے بھی خطاب کرتے ہویا تمام طلبہ و طالبات کے ان کوششوں اور کاوشوں کو خوب سراہا جمیعت علماء کے اس گراں قدر خدمت کی بہت زیادہ تعریف کی آپ نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ صحابہ کرام کی زندگیاں کو پڑھ کر کوئز مقابلے میں حصہ لینا یہ اصل جمیعت کا مقصد نہیں ہے بلکہ اس کوئز کا مقصد تو یہ ہے کہ ہمارے نونہالوں کو صحابہ کرام کی زندگیوں سے واقف کرایا جائے تاکہ وہ ان کی سیرت کو جان کر ان کو اپنا آئیڈیل اور نمونہ بنائیں اور ان کی زندگی کے مطابق زندگی گزاریں۔
کنوینر اجلاس حضرت مولانا قاری سید عبدالباری صاحب نے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں تمام ہی کارکنان جمیعت کی شب و روز خدمات رہی، کئی کئی راتیں اسی میں گزری، مستقل ان تھک کوششوں کے بعد میں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے، خطاب کے آخر میں حضرت قاری صاحب نے تمام ہی کارکنان جمیعت اور شرکاء طلباء طالبات ان کے والدین کا شکریہ ادا کیا۔
اس اجلاس میں جمیعت علماء گریٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ صحابہ کرام کوئز پروگرام میں ممتاز نمبرات سے کامیاب ہونے والے خوش نصیب 60 طلبہ و طالبات کے درمیان معزز علماء کرام اور مہمانان خصوصی کے ہاتھوں گراں قدر تحائف کتابیں مومینٹوز تقسیم کیۓگۓ۔ اور کوئز میں شرکت کرنے والے ہر مساہم کو سند شرکت اور میڈل بھی دیا گیا۔
آخر میں صدر محترم حضرت مولانا محمد مصدق القاسمی صاحب دامت برکاتہم کی رقت آمیز دعا کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔ اس اجلاس میں جمعیت علماء گریٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام ہونے والے کوئز مقابلے کے اندر شریک ساڑھے تین ہزار طلباء وطالبات ان کے والدین، ہمدردان قوم و ملت، کارکنان جمعیت اور معزز علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی، اور فنکشن ہال اپنی وسعت کے باوجود تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا، اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں تمام کارکنان جمعیت نے خلوص وجذبہ کے ساتھ خوب محنت کی۔


