حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے وقف قانون سے متعلق ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ وقف ٹریبونل کا دائرۂ اختیار صرف انہی جائیدادوں تک محدود ہے جو یا تو ’’لسٹ آف اوقاف‘‘ میں درج ہوں یا وقف ایکٹ کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ ایسی جائیدادیں جو وقف ایکٹ کے تحت نہ درج ہوں اور نہ رجسٹرڈ، ان سے متعلق تنازعات سننے کا اختیار وقف ٹریبونل کو حاصل نہیں ہے۔
جسٹس سنجے کمار اور کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس میں غیر رجسٹرڈ جائیداد کے معاملے میں وقف ٹریبونل کی جانب سے دی گئی حکمِ امتناعی کو برقرار رکھا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 6(1) اور 7(1) کے تحت ٹریبونل سے رجوع کرنے کے لیے لازم ہے کہ متعلقہ جائیداد باب دوم کے تحت شائع شدہ ’’لسٹ آف اوقاف‘‘ میں شامل ہو یا باب پنجم کے تحت رجسٹرڈ ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ٹریبونل اس بات کا بھی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ وہ جائیداد وقف ہے یا نہیں۔
فیصلے میں جسٹس چندرن نے واضح کیا کہ دفعہ 83 محض وقف ٹریبونلز کے قیام سے متعلق ایک انتظامی شق ہے، یہ از خود وسیع اختیارات دینے والی شق نہیں۔ عدالت نے اس ضمن میں Ramesh Gobindram بنام Sugra Humayun Mirza Wakf کے فیصلے کو درست قانون قرار دیتے ہوئے بعد کے بعض فیصلوں میں اختیار کی گئی وسیع تشریح کو مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 85 کے تحت سول عدالتوں کا دائرہ اختیار خود بخود ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ سول عدالتوں کی ممانعت صرف انہی معاملات میں ہوگی جو واقعی وقف ایکٹ کے تحت آتے ہوں اور جہاں ٹریبونل کو واضح طور پر اختیار دیا گیا ہو۔
یہ مقدمہ ایک ایسے دعوے سے متعلق تھا جس میں مدعی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایک رہائشی عمارت کا کمرہ طویل مذہبی استعمال کے سبب مسجد اور وقف جائیداد بن چکا ہے، حالانکہ وہ ’’لسٹ آف اوقاف‘‘ میں شامل نہیں ہے اور نہ رجسٹرڈ ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے دعوے پر وقف ٹریبونل کو سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں، چنانچہ مقدمہ دائرۂ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا۔


