اہم خبر: ایس آئی آر میں آدھار قابلِ قبول لیکن شہریت کا ثبوت نہیں: سپریم کورٹ

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے انتخابی فہرستوں کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) میں آدھار کارڈ کے استعمال کے خلاف اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آدھار شناخت کے لیے قابلِ قبول ہے، اگرچہ یہ شہریت کا ثبوت نہیں۔

چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران اس دلیل کو ناقابلِ قبول قرار دیا کہ چونکہ آدھار کارڈ نجی ایجنسیوں کے ذریعہ جاری کیا جاتا ہے، اس لیے یہ ناقابلِ اعتماد ہے۔ جسٹس باگچی نے واضح الفاظ میں کہا: “کیا آپ جانتے ہیں کہ پاسپورٹ کا اجرا بھی نجی ایجنسیوں کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے؟”

عدالت نے کہا کہ آج کے دور میں کئی سرکاری خدمات نجی اداروں کے ذریعہ انجام دی جاتی ہیں، لیکن اس سے ان خدمات یا دستاویزات کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہوتی۔ بنچ نے واضح کیا کہ نجی ادارہ یہاں سرکاری فریضہ انجام دیتا ہے۔

یہ سماعت اشونی اپادھیائے کی عرضی سمیت متعدد درخواستوں پر ہو رہی تھی، جن میں ایس آئی آر مشق کی آئینی حیثیت، شفافیت اور آدھار کے استعمال کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عرضی گزاروں کے وکیل وجے ہنساریا نے دلیل دی کہ آدھار ایکٹ خود واضح کرتا ہے کہ آدھار شہریت یا ڈومیسائل کا ثبوت نہیں ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن آدھار کو شہریت ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ شناخت اور ڈپلیکیسی روکنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایس آئی آر کے لیے مطلوب دستاویزات کا ہر صورت میں شہریت سے براہ راست تعلق ہونا ضروری نہیں۔

سینئر وکیل کپل سبل اور دیگر وکلا نے ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جانے پر سوال اٹھائے، تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ نام شامل کرنا یا خارج کرنا ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کا فطری حصہ ہے۔ عدالت نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ ووٹر لسٹ سے اخراج شہریت کے خاتمے کے مترادف نہیں اور الیکشن کمیشن آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں