حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے ’’مساواتی اور امتیاز مخالف‘‘ ضوابط 2026 پر فوری طور پر روک لگا دی ہے اور مرکز حکومت و یو جی سی کو 19 مارچ تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس دوران 2012 کے پرانے ضوابط ہی نافذ العمل رہیں گے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے ان ضوابط کو بادی النظر میں ’’غیر واضح‘‘، ’’مبہم‘‘ اور ’’غلط استعمال کے قابل‘‘ قرار دیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ان ضوابط میں امتیاز کی تعریف محدود کر دی گئی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 14 میں دیے گئے مساوات کے اصول سے متصادم ہو سکتی ہے۔
یہ کارروائی ان مفادِ عامہ کی عرضیوں پر ہوئی جن میں کہا گیا کہ یو جی سی نے ذات پر مبنی امتیاز کو صرف درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست قبائل (ST) اور او بی سی تک محدود کر دیا ہے، جبکہ عمومی زمرے کے طلبا کو ادارہ جاتی تحفظ اور شکایات کے ازالے کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب ’’امتیاز‘‘ کی اصطلاح پہلے ہی تمام طرح کے امتیازی سلوک کو محیط ہے تو پھر ’’ذات پر مبنی امتیاز‘‘ کی علیحدہ اور محدود تعریف کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی سوال کیا کہ ان ضوابط میں ریگنگ جیسے سنگین مسئلے کو کیوں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے مشورہ دیا کہ ان ضوابط کا ازسرِ نو جائزہ ممتاز ماہرینِ قانون پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے لیا جانا چاہیے، تاکہ سماجی اقدار اور آئینی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ یو جی سی کے 2026 کے ضوابط کے تحت تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ’’ایکوئٹی کمیٹیاں‘‘، ’’ایکوئٹی اسکواڈز‘‘ اور ’’مساوی مواقع مراکز‘‘ قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں او بی سی، ایس سی، ایس ٹی، معذور افراد اور خواتین کی نمائندگی لازمی ہوگی۔
ان ضوابط کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ تنظیموں اور سماجی گروہوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا، جنہوں نے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔
عدالت نے اس موقع پر یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ “کیا ہم ذات سے پاک معاشرہ بنانے کی کوشش میں پیچھے کی طرف جا رہے ہیں؟”


