حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے ضلع سَتنا میں بی جے پی کے لیڈر پر ایک 25 سالہ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سنگین الزام سامنے آیا ہے۔ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ پولیس نے ملزم بی جے پی لیڈر اور اس کے ساتھی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ واقعہ ناگوَد پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں پیش آیا۔ متاثرہ خاتون علاقہ میں بیوٹی پارلر چلاتی ہیں، جن کی دکان کے قریب بی جے پی ناگوَد منڈل صدر پلکت ٹنڈن کا گودام واقع ہے۔ خاتون کے مطابق 27 جنوری کی رات تقریباً 10 بجے پلکت کے گودام میں کام کرنے والے آر کے نامدیو نے فون کر کے پارلر سروس کے لیے بلایا۔
خاتون جب گودام پہنچی تو نامدیو انہیں اندر لے گیا، جہاں پلکت ٹنڈن موجود تھا۔ خاتون کا الزام ہے کہ پلکت نشے کی حالت میں تھا اور اس نے ان کا ہاتھ پکڑ کر بدتمیزی کی۔ جب وہ وہاں سے جانے لگیں تو پلکت نے راستہ روکا، چہرہ پر مارنے لگا، تھپڑ مارے اور بدسلوکی کی۔
خاتون کی چیخ و پکار سن کر قریبی گھر میں موجود ان کی والدہ اور بھائی موقع پر پہنچے تو پلکت نے ان پر بھی حملہ کیا۔ متاثرہ خاندان نے الزام لگایا کہ بی جے پی لیڈر نے پولیس میں شکایت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے پلکت ٹنڈن اور آر کے نامدیو کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بی جے پی ضلع جنرل سیکریٹری رماکانت گوتم نے پلکت ٹنڈن کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔ اس واقعہ کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


