کشمیری مسلم نوجوان پر مذہبی بنیاد پر ہندوتوا درندوں نے آہنی سلاخوں سے وحشیانہ حملہ کردیا

حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ کے ضلع دہرادون کے وکاس نگر علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 17 سالہ کشمیری مسلم نوجوان کو مبینہ طور پر صرف اپنی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ایک دکاندار نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ حملہ میں نوجوان کے سر پر آہنی سلاخ سے وار کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق، نوجوان اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک کراانہ اسٹور پر چپس خریدنے گیا تھا۔ دونوں آپس میں کشمیری زبان میں بات کر رہے تھے کہ پاس کی دکان سے ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں اور الزام لگایا کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں۔ جب لڑکوں نے اس الزام کی تردید کی تو مبینہ طور پر دکاندار نے دکان سے باہر آکر آہنی سلاخ سے نوجوان کے سر پر شدید حملہ کر دیا۔

زخمی نوجوان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے سر پر تقریباً 15 ٹانکے لگائے گئے جبکہ اس کا ایک ہاتھ بھی فریکچر ہو گیا۔ اس کے ساتھ موجود دوست کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو فی الحال زیرِ علاج ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں زخمی نوجوان نے الزام لگایا کہ اسے صرف اس لیے مارا گیا کیونکہ وہ مسلمان ہے۔
ویڈیو میں وہ کہتا ہے: “انہوں نے کہاکہ ‘یہ مسلمان ہے، اس کو مارو’۔”

میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ افسوسناک واقعہ کے بعد پولیس کی جانب سے کوئی خاص کاروائی نہیں کی گئی۔ وہیں جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ پروفائلنگ اور تشدد کی ایک خطرناک مثال ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اتراکھنڈ میں بلال احمد گنائی نامی ایک کشمیری مسلمان کو بجرنگ دل سے وابستہ غنڈوں نے حملہ کرکے خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں