حیدرآباد (دکن فائلز) عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے (Gold) نے اس ہفتے ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز ہلچل پیدا کر دی۔ معروف کیپیٹل مارکیٹس تجزیاتی پلیٹ فارم دی کوبیسز لیٹر کے مطابق، سونے کی مارکیٹ ویلیو میں ایک ہی تجارتی دن کے دوران 5.5 ٹریلین ڈالر کا اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا، جو مالیاتی تاریخ کا سب سے بڑا سنگل ڈے سوئنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
پلیٹ فارم کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ تجزیے کے مطابق، جمعرات کو امریکی وقت کے مطابق صبح 9:30 سے 10:25 کے درمیان سونے کی مارکیٹ ویلیو میں 3.2 ٹریلین ڈالر کی کمی ہوئی، یعنی تقریباً 58 ارب ڈالر فی منٹ کی رفتار سے سرمایہ نکلتا رہا۔ تاہم اس کے فوراً بعد صورتحال نے ڈرامائی کروٹ لی اور 10:25 سے مارکیٹ بند ہونے تک سونے نے دوبارہ 2.3 ٹریلین ڈالر کی قدر حاصل کر لی۔
اگر یہ اعداد و شمار درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ہلچل نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ دیگر اثاثہ جاتی منڈیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہے۔ مثال کے طور پر، بِٹ کوائن کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً 850 ارب ڈالر ہے، یعنی سونے میں ہونے والا یہ اتار چڑھاؤ پورے کرپٹو مارکیٹ سے تین گنا زیادہ تھا، وہ بھی صرف چند گھنٹوں میں۔
دی کوبیسز لیٹر کے مطابق، سونے میں موجودہ اتار چڑھاؤ کی شدت اب 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران دیکھے گئے لیول سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ منڈیاں غیر معمولی دباؤ میں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس شدید بے یقینی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں مسلسل مہنگائی کا خدشہ، شرح سود کے مستقبل پر غیر یقینی، جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، کرنسیوں کی قدر میں عدم استحکام اور تجارتی جنگیں ہیں۔ یہ تمام عوامل روایتی طور پر سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی طلب میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی تیز رفتار پوزیشننگ، الگورتھمک ٹریڈنگ اور ڈیریویٹو مارکیٹس میں لیوریجڈ سودے قیمتوں میں شدید جھٹکوں کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل سونے کی قیمتیں فزیکل ڈیمانڈ سے زیادہ مالیاتی فلو سے متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ بے چینی صرف سونے تک محدود نہیں رہی۔ چاندی، پلاٹینم اور پیلاڈیم میں بھی حالیہ دنوں میں شدید انٹرا ڈے موومنٹس دیکھنے میں آئے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ سرمایہ کار چند گھنٹوں میں ہی رسک آن اور رسک آف حکمت عملی کے درمیان تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
بھارت میں ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج پر چاندی کے فیوچرز نے جمعرات کو پہلی بار 4 لاکھ روپے فی کلو کی سطح عبور کی، جس میں 6.3 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا، جبکہ سونا 1.8 لاکھ روپے فی 10 گرام کی نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔
سونے میں یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی نظام ایک بار پھر شدید دباؤ اور غیر یقینی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں آنے والے دن عالمی منڈیوں کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔


