حیدرآباد (دکن فائلز) جسے کبھی نسبتاً صاف اور خوشگوار فضا والا شہر سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے۔ اگرچہ قومی دارالحکومت دہلی اور ممبئی جیسے میگا شہروں کے مقابلے میں حیدرآباد کی ہوا قدرے بہتر دکھائی دیتی ہے، مگر جنوبی ہند کی دیگر میٹرو شہروں سے موازنہ کیا جائے تو صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک حیدرآباد ہی کی ہے۔ یہ انکشاف تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ (پی سی بی) نے کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعرات کو حیدرآباد میں منعقدہ ایئر پولیوشن انڈیکس سیمینار میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نے شہریوں کو فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے معیارات کے مطابق فضا میں PM-10 کی مقدار 40 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہونی چاہیے، لیکن حیدرآباد میں یہ سطح مسلسل 82 سے 88 مائیکروگرام کے درمیان ریکارڈ کی جا رہی ہے، یعنی مقررہ حد سے دو گنا زیادہ۔ حتیٰ کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کی حد 60 مائیکروگرام کے مقابلے میں بھی شہر میں تقریباً 35 فیصد زائد آلودگی پائی جا رہی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ پورے سال میں ایک دن بھی ایسا ریکارڈ پر نہیں آیا جب حیدرآباد کی ہوا کو ’’صاف‘‘ قرار دیا جا سکے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) زیادہ تر درمیانی یا قابلِ اطمینان درجے تک ہی محدود رہا۔ رواں سال جنوری میں PM-10 کی سطح 105 مائیکروگرام تک پہنچ جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر کی فضا تیزی سے زہریلی بنتی جا رہی ہے۔
تیز رفتار شہری ترقی اور بڑھتی ہوئی ٹریفک کے باعث حکام نے شہر کے گنجان آبادی والے کو فضائی آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس قرار دیا ہے۔ ان میں خیریت آباد، کوٹھی، جیڈی میٹلہ، بی ایچ ای ایل، امیرپیٹ، نامپلی، چارمینار، مہدی پٹنم، ہائی ٹیک سٹی، کوکٹ پلی، سکندرآباد، سینک پوری اور ایل بی نگر، کوٹھی شامل ہیں۔ پی سی بی کے مطابق ان علاقوں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی میں اضافے کی وجہ صرف گاڑیوں کی بڑھتی تعداد نہیں بلکہ شہر کے مضافات میں جاری تعمیراتی سرگرمیاں اور صنعتی اخراج بھی اہم عوامل ہیں۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ PM-10 کی بلند سطح سانس کی بیماریوں، دمہ اور پھیپھڑوں کے سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد پر پڑتا ہے۔


