حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے ایک تاریخی اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سرکاری اور نجی دونوں طرح کے اسکولوں میں زیر تعلیم طالبات کو مفت بایو ڈی گریڈیبل سینیٹری نیپکن فراہم کریں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ حیض سے متعلق صحت (Menstrual Health) آئینِ ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت فراہم کردہ حقِ زندگی کا لازمی جزو ہے۔
جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر حیض سے متعلق حفظانِ صحت کی سہولتیں میسر نہ ہوں تو یہ بچیوں کی عزتِ نفس اور وقار کو مجروح کرتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وقار اس بات میں مضمر ہے کہ کسی کو ذلت، محرومی یا غیر ضروری تکلیف کے بغیر زندگی گزارنے کے حالات فراہم کیے جائیں۔
سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ تمام اسکولوں میں طلبا و طالبات کے لیے علیحدہ بیت الخلاء لازمی طور پر ہوں اور یہ بیت الخلاء صاف، فعال اور پانی کی سہولت سے لیس ہوں۔ عدالت نے مزید کہا کہ تمام اسکولوں میں، خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی، معذور طلبہ کے لیے موزوں بیت الخلاء کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
عدالت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو حکم دیا کہ ہر اسکول میں مینسٹرول ہائیجین مینجمنٹ کارنرز قائم کیے جائیں، جہاں ہنگامی حالات کے لیے اضافی یونیفارم، اندرونی لباس، سینیٹری پیڈ اور دیگر ضروری اشیا دستیاب ہوں۔
عدالت نے خبردار کیا کہ اگر نجی اسکول ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے تو ان کی منظوری (ریکگنیشن) منسوخ کی جا سکتی ہے، جبکہ ریاستی حکومتوں کو بھی ان احکامات پر عمل درآمد میں ناکامی کی صورت میں جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
یہ فیصلہ جیا ٹھاکر کی جانب سے دسمبر 2024 میں دائر کی گئی عوامی مفاد کی عرضی پر دیا گیا، جس میں مرکز کی ’اسکول جانے والی لڑکیوں کے لیے حیض سے متعلق حفظانِ صحت پالیسی‘ کو جماعت ششم سے دوازدہم تک کی طالبات کے لیے ملک بھر میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔


