بی جے پی لیڈروں کی مسلم دشمنی کا ایک اور واقعہ! پدم شری ایوارڈ یافتہ میر حاجی قاسم کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کرانے کی گھٹیا کوشش

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے جوناگڑھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک کارپوریٹر کی جانب سے پدم شری ایوارڈ یافتہ معروف لوک فنکار اور ڈھولک نواز میر حاجی قاسم (مشہور بہ نام حاجی راماکدو) کے ووٹر لسٹ اندراج پر اعتراض نے ملک بھر میں شدید سیاسی اور سماجی ردعمل کو جنم دے دیا ہے۔

جوناگڑھ میونسپل کارپوریشن کے بی جے پی کارپوریٹر سنجے جمناداس منوارا نے الیکشن کمیشن میں فارم 7 کے ذریعہ خصوصی انتخابی فہرست نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران درخواست جمع کروائی، جس میں وارڈ نمبر 8 کی ووٹر لسٹ سے ’’حاجی بھائی راٹھوڑ‘‘ کے نام کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ درخواست میں وجہ یہ بتائی گئی کہ نام اور شناخت میں تضاد پایا جاتا ہے۔

یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا جب محض 48 گھنٹے قبل مرکزی حکومت نے میر حاجی قاسم کو فنونِ لطیفہ میں زندگی بھر کی خدمات کے اعتراف میں پدم شری ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کے بعد سوشل میڈیا، سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں میں شدید ناراضگی دیکھنے میں آئی، جہاں اس عمل کو فرقہ وارانہ، جانبدارانہ اور مسلم فنکار کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

کانگریس پارٹی نے اس معاملے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک قومی اعزاز یافتہ فنکار کے خلاف ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کی کوشش نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ جمہوری اقدار اور قومی وقار کے بھی منافی ہے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے معاملے میں مداخلت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

74 سالہ میر حاجی قاسم، جنہوں نے مویشیوں کی فلاح کے لیے تین ہزار سے زائد فلاحی پروگراموں اور ایک ہزار سے زیادہ اسٹیج شوز میں ڈھولک بجائی ہے، نے اس اقدام پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس تمام درست شناختی دستاویزات موجود ہیں، جن میں آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور پاسپورٹ شامل ہیں، اور اس کے باوجود ان کی شناخت پر سوال اٹھایا جانا تکلیف دہ ہے۔

دوسری جانب، بی جے پی کارپوریٹر سنجے منوارا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتراض کسی ذاتی یا فرقہ وارانہ نیت پر مبنی نہیں تھا بلکہ صرف نام کی تکنیکی درستی کے لیے تھا، تاکہ ووٹر لسٹ میں ممکنہ ابہام یا غلط استعمال سے بچا جا سکے۔ تاہم ان کی اس وضاحت کے باوجود عوامی ناراضگی کم نہیں ہوئی اور سیاسی مبصرین نے اسے انتخابی عمل کے ممکنہ غلط استعمال کی ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ گجرات اور راجستھان میں ایس آئی آر کے دوران خاص طور پر مسلم ووٹرز کے ناموں کو بڑے پیمانہ پر خارج کرانے کی کوشش کا بی جے پی لیڈروں پر الزام عائد کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں