حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں ایک معمر مسلم شخص کو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز ریمارکس دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد اس معاملے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں بزرگ شخص کو مبینہ طور پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا اور متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس اسٹیشن کی بعض تصاویر اور ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں، جن میں بزرگ شخص کو چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان مناظر پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی شخص کو عوامی شخصیات کے خلاف اشتعال انگیز یا نفرت انگیز بیانات دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکام کے مطابق معاملے کی قانونی کارروائی جاری ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب بعض سماجی کارکنوں اور مسلم تنظیموں نے سوال اٹھایا ہے کہ اظہارِ رائے اور سیاسی تنقید کے معاملات میں کارروائی کے دوران انسانی ہمدردی اور قانونی توازن کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے، خصوصاً جب معاملہ ایک معمر شہری سے متعلق ہو۔
اس واقعہ نے ایک بار پھر آزادیِ اظہار، سیاسی تنقید اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔


