خواجہ معز الدین کا قتل اور ملزمین کی گرفتاری! مسلم تعلیمی اداروں ممتاز، انوارالعلوم اور اعزا کالج کا تحفظ ضروری: محمد مشتاق ملک

حیدرآباد (دکن فائلز) معروف وکیل ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین کی پراسرار ہلاکت، اس مقدمہ میں نواب محبوب عالم خان اور نواب مجاہد عالم خان کی گرفتاری اور ملزمان کی جانب سے موقوفہ مسلم تعلیمی اداروں کو چس طرح اپنی ذاتی ملکیت کے طور پر استعمال کیا گیا اس پر مسلم سماج میں مختلف سوالات زیر بحث ہیں۔ اسی تناظر میں تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک نے مسلم تعلیمی اداروں کے مستقبل، ان کے نظم و نسق اور احتساب کے نظام پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔

محمد مشتاق ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ ممتاز کالج، انوارالعلوم کالج، اعزا کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور دیگر مسلم تعلیمی ادارے ملت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان اداروں سے ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیمی امیدیں وابستہ ہیں، اس لیے ان کے مستقبل کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم سماج میں یہ تاثر پایا جاتا رہا ہے کہ بعض اداروں کو وقت کے ساتھ چند افراد یا خاندانوں کی ذاتی جاگیر کی طرح چلایا گیا، جبکہ ان اداروں کے مالی معاملات اور انتظامی فیصلوں میں مکمل شفافیت کے فقدان پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی مالی رقوم کے تصرف اور استعمال کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں میں طویل عرصہ سے چہ مگوئیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ اور شفاف احتساب ناگزیر ہے۔

محمد مشتاق ملک نے کہا کہ وقف بورڈ سمیت ملت کے مختلف اداروں میں احتساب کا مؤثر نظام نہ ہونے کے سبب کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ملت احتساب کے عمل کو نظر انداز کرتی رہی ہے، حالانکہ جو قوم اپنے ذمہ داران اور اداروں کا احتساب نہیں کرتی، وہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ احتساب کا مقصد کسی شخصیت یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط، شفاف اور جوابدہ بنانا ہے۔ اگر مالی اور انتظامی معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ اداروں کی ترقی اور استحکام بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

تحریک مسلم شبان کے صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ ماہرین تعلیم، دانشور، سماجی کارکنان، سابق طلبہ اور ملت کے ذمہ دار افراد مل بیٹھ کر ان اداروں کے مستقبل کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو شخصیات کے بجائے اصولوں اور مضبوط نظام کے تحت چلایا جانا چاہیے تاکہ ان کا تسلسل اور وقار برقرار رہے۔

محمد مشتاق ملک نے کہا کہ آج کے دور میں تعلیم ہی ترقی، خود اعتمادی اور سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔ اگر مسلم تعلیمی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملت مضبوط ہوگی، اور اگر ان اداروں کو کمزور کیا گیا یا ان میں شفافیت اور احتساب کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے ملت کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ اختلافات سے بالاتر ہو کر تعلیمی اداروں کے تحفظ، ترقی، شفافیت اور جوابدہی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں تاکہ یہ ادارے آنے والی نسلوں کے لیے علم و ترقی کے مراکز کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں