حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی نے قومی اعزاز کی توہین (ترمیمی) بل 2026 کے تحت وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مسلمان کو ایسا عمل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو۔
اویسی نے کہا کہ “میں مسلمان ہوں، میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ اگر میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں تو یہ میرے دین کے خلاف ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دیتا ہے، اس لیے کسی مذہبی عقیدے کے خلاف کوئی عمل لازمی قرار دینا آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے قومی ترانے “جن گن من” اور “وندے ماترم” کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ جن گن من ملک اور اس کے عوام کے احترام کا اظہار کرتا ہے، جبکہ وندے ماترم کے بعض حصوں میں ایک دیوی کے لیے عقیدت اور تعظیم کا اظہار موجود ہے، اس لیے دونوں کو ایک جیسا نہیں سمجھا جا سکتا۔
اویسی نے مزید کہا کہ وندے ماترم کو “قومی نغمہ” قرار دینے کے حوالے سے بھی آئینی اور قانونی بحث موجود ہے۔ ان کے مطابق آئینِ ہند میں “قومی نغمہ” کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ قانون منظور کیا ہے۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 29 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعات مذہبی آزادی، اپنے عقیدے پر عمل کرنے اور ثقافتی و مذہبی شناخت کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں، لہٰذا کسی شہری کو ایسا مذہبی یا نظریاتی عمل اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے عقیدے سے متصادم ہو۔
اسلامی عقیدے کے مطابق توحید ایمان کی بنیاد ہے، یعنی عبادت، سجدہ اور بندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت بیان کی ہے اور شرک سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اسی وجہ سے مسلمان اپنی دینی تعلیمات کے مطابق عبادت کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص سمجھتے ہیں اور ہر وہ عمل جسے وہ اپنی مذہبی سمجھ کے مطابق عبادت یا بندگی کے منافی تصور کریں، اس سے اجتناب کرتے ہیں۔
اویسی نے کہا کہ مذہبی آزادی ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کا بنیادی حصہ ہے اور اس کا احترام ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔


