قدیم بیوفورٹ قلعہ پر اسرائیل کا ناپاک قبضہ! تاریخی قلعہ کو 900 سال قبل صلاح الدین ایوبی نے فتح کیا تھا

حیدرآباد (دکن فائلز) جنوبی لبنان میں واقع تقریباً 900 سال پرانے تاریخی بیوفورٹ قلعہ پر اسرائیلی فوج کے دوبارہ قبضے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں فوجیوں کو قلعے کے کھنڈرات میں داخل ہوتے اور وہاں اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو ’’پالیسی میں بڑی تبدیلی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اب دفاعی حکمت عملی کے بجائے پیش قدمی کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج شام، غزہ اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں۔

بیوفورٹ قلعہ، جسے عربی میں ’’قلعۃ الشقیف‘‘ کہا جاتا ہے، لبنان کے ارنون علاقے میں ایک بلند چٹانی پہاڑی پر واقع ہے۔ اس کا موجودہ ڈھانچہ صلیبی جنگوں کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور تقریباً 1190ء میں عظیم مسلم سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبی افواج کو شکست دے کر اس قلعے کو فتح کیا تھا۔

تاریخ دانوں کے مطابق یہ قلعہ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث ہمیشہ عسکری توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سے شمالی اسرائیل، جنوبی لبنان کے وسیع علاقے اور وادی لیطانی پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں متحارب قوتیں اس پر قبضے کیلئے برسرپیکار رہی ہیں۔

1982ء میں لبنان پر اسرائیلی حملے کے دوران بھی اس قلعے پر شدید لڑائی ہوئی تھی اور بعد ازاں اسرائیل نے اسے اپنی سکیورٹی چوکی کے طور پر استعمال کیا تھا۔ سن 2000 میں اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے انخلا کے بعد یہ مقام دوبارہ لبنانی کنٹرول میں آ گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ قبضے کا مقصد صرف فوجی برتری حاصل کرنا نہیں بلکہ حزب اللہ کے حامیوں کو نفسیاتی پیغام دینا بھی ہے۔ لبنان کی حکومت نے اسرائیلی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے، جبکہ یورپی ممالک نے بھی کشیدگی میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں