حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے یومِ تاسیس کے موقع پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ریاست کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل دہائیوں پر محیط عوامی جدوجہد، بے شمار شہداء کی قربانیوں اور عوامی امنگوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے تلنگانہ کو ترقی، خوشحالی اور عالمی سطح پر ایک مثالی ریاست بنانے کے لیے ازسرنو عہد کریں۔
سکندرآباد کے پریڈ گراؤنڈس میں منعقدہ سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے پولیس اور سیکورٹی دستوں کی سلامی قبول کی اور تلنگانہ کے قیام کے لیے جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اسمبلی کے روبرو واقع گن پارک میں تلنگانہ شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ 7 دسمبر 2023 کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کی حکومت کا واحد مقصد ریاست کی ترقی، عوامی فلاح اور غربت کا خاتمہ رہا ہے۔ انہوں نے عوامی شاعر کالوجی نارائن راؤ کے مشہور قول ’’پیدائش تمہاری، موت تمہاری، مگر پوری زندگی ملک کی ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اسی جذبے کے تحت کام کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور سابق یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی سیاسی بصیرت اور فیصلوں کی بدولت تلنگانہ کا خواب حقیقت میں تبدیل ہوا۔
اپنی تقریر میں انہوں نے حکومت کی گزشتہ ڈھائی سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کسانوں کے لیے دو لاکھ روپے تک کے زرعی قرضے معاف کیے گئے ہیں جبکہ زرعی اور کسانی فلاح کے لیے ایک لاکھ 56 ہزار کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کسانوں کی پیداوار آخری دانے تک خریدنے اور مناسب امدادی قیمت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
خواتین کی فلاح و خودمختاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’مہالکشمی‘‘ اسکیم کے تحت آر ٹی سی بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی جس سے خواتین تقریباً دس ہزار کروڑ روپے کی بچت کرچکی ہیں۔ اسی طرح 42.90 لاکھ خاندانوں کو 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر اور 53.09 لاکھ گھروں کو 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
نوجوانوں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے ریکارڈ مدت میں 67,763 سرکاری ملازمتیں پُر کی ہیں اور مزید تقرریوں کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے تعلیم کو غربت کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے سرکاری اسکولوں کی بہتری، پری پرائمری کلاسوں کے قیام، طلبہ کے لیے ناشتے کی اسکیم اور جونیئر کالجوں تک دوپہر کے کھانے کی اسکیم کی توسیع کا اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے 4.50 لاکھ ’’اندرامّا ہاؤسنگ‘‘ مکانات منظور کیے ہیں جن میں سے ایک لاکھ مکانات کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے جبکہ بقیہ مکانات کی تکمیل کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 لاکھ سے زائد نئے راشن کارڈ جاری کیے گئے ہیں اور کروڑوں افراد کو معیاری چاول فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ریونت ریڈی نے ’’تلنگانہ رائزنگ-2047‘‘ وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو CURE، PURE اور RARE زمروں میں تقسیم کر کے ترقی کا منفرد ماڈل تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف 2034 تک تلنگانہ کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
حیدرآباد کی ترقی کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہر کو عالمی معیار کے سروس ہب کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ میٹرو ریل کی توسیع، موسیٰ ندی کی صفائی، ہائیڈرا کے ذریعے جھیلوں اور سرکاری زمینوں کے تحفظ، گرین فیلڈ ’’بھارت فیوچر سٹی‘‘ کے قیام اور شمس آباد کو بلیٹ ٹرین مرکز کے طور پر ترقی دینے جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت نے سماجی، معاشی، تعلیمی، روزگار اور سیاسی ذات پات سروے کامیابی سے مکمل کیا ہے، جسے اب قومی مردم شماری کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی انشورنس اور کیش لیس ہیلتھ اسکیم کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ صرف ایک ریاست نہیں بلکہ شہداء کی قربانیوں کا امین ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، بھائی چارے اور ترقی کے جذبے کے ساتھ تلنگانہ کی تعمیر نو میں شریک ہوں تاکہ ریاست کو نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک گیٹ وے بنایا جا سکے۔
انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام ’’جئے ہند، جئے تلنگانہ‘‘ کے نعروں کے ساتھ کیا۔


