انتہائی تکلیف دہ خبر: رات کی تاریکی میں 200 سالہ تاریخی مسجد 22 منٹ میں شہید! صبح ہوئی تو ازغیب شہید مسجد کا نام و نشان تک باقی نہ رہا (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے تاریخی شہر وارانسی سے ایک انتہائی افسوسناک اور دل گرفتہ کر دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ طور پر تقریباً دو صدیوں پرانی ازغیب شہید مسجد کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب انتظامیہ نے بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں مسمار کر دیا۔ مقامی افراد کے مطابق جب بدھ کی صبح لوگوں کی آنکھ کھلی تو وہ منظر ان کے لیے ناقابلِ یقین تھا، کیونکہ جہاں گزشتہ شب ایک تاریخی مسجد، مزار اور قبرستان کا حصہ موجود تھا، وہاں صرف خالی زمین دکھائی دے رہی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رات تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، پولیس اور پی اے سی کے ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ علاقے کی مکمل ناکہ بندی کی گئی، چاروں جانب بیریکیڈنگ لگا دی گئی اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ میڈیا نمائندوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد پانچ بلڈوزروں کی مدد سے تقریباً 42 فٹ بلند ازغیب شہید مسجد کو صرف 22 منٹ میں زمین بوس کر دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق مسجد کے ساتھ موجود مزار اور قبرستان کے بعض حصوں کو بھی منہدم کیا گیا۔ کارروائی مکمل ہوتے ہی ملبہ ٹرکوں میں بھر کر راتوں رات وہاں سے منتقل کر دیا گیا تاکہ صبح تک اس تاریخی مقام کا کوئی نمایاں نشان باقی نہ رہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ کارروائی انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ انجام دی گئی۔

مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ ازغیب شہید مسجد تقریباً 200 سال قدیم تھی اور علاقے کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم مذہبی و تاریخی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے جن کا چند ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مسجد اور دیگر تعمیرات ریلوے کی زمین پر قائم تھیں اور کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن منصوبے کے تحت اس اراضی کو خالی کرانا ضروری تھا۔

انتظامیہ کے مطابق زمین کے تنازعے سے متعلق مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد ریلوے کو زمین واپس دلانے کے لیے کارروائی کی گئی۔ تاہم مقامی مسلمانوں اور سماجی حلقوں کا سوال ہے کہ اگر قانونی کارروائی ضروری تھی تو اسے دن کی روشنی میں اور متعلقہ فریقین کی موجودگی میں انجام کیوں نہیں دیا گیا۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی مقام پر موجود ایک ہنومان مندر کو بھی ہٹایا گیا ہے، تاہم ازغیب شہید مسجد کے انہدام نے مقامی آبادی میں شدید غم، بے چینی اور افسردگی پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں اور لوگ اس تاریخی مسجد کی تصاویر اور یادیں شیئر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات صرف اینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ تاریخ، تہذیب، یادوں اور روحانی وابستگی کی علامت ہوتی ہیں۔ ازغیب شہید مسجد کے انہدام نے علاقے کے بہت سے لوگوں کو ایک گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے، اور یہ واقعہ طویل عرصے تک وارانسی کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا رہے گا۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2061992210405687331

اپنا تبصرہ بھیجیں