حیدرآباد (دکن فائلز) گوشہ محل کے رکن اسمبلی اور سابق بی جے پی لیڈر ملعون راجہ سنگھ کی جانب سے مسلم خواتین اور مسلم برادری کے خلاف مبینہ طور پر دیے گئے اشتعال انگیز اور متنازعہ بیانات کے خلاف حیدرآباد سمیت تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں زبردست احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں آج جمعہ کی نماز کے بعد مختلف علاقوں میں مسلمانوں نے پرامن طریقہ سے احتجاجی مظاہرہ کرکے ملعون کی فوری گرفتاری کا کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا۔
احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ کانگریس حکومت مسلمانوں کے ووٹوں کےلئے بڑے بڑے دعوے تو کرتی ہے لیکن ریونت ریڈی سافٹ ہندوتوا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور پولیس پر ہندوتوا شدت پسندوں کا خوف طاری ہے اور سیاسی دباؤ میں کام کررہی ہے۔
مسلمانوں نے بتایا کہ اگر کوئی مسلمان شخص اس طرح کا بیان دیتا تو وہ جیل میں ہوتا اور اس پر انتہائی خطرناک ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جاتے، لیکن ہائیکورٹ کے حکم کے باجود راجہ سنگھ کی جانب سے مسلسل نفرت انگیز بیانات دینے پر پولیس باکل خاموش دکھائی دیتی ہے۔
احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملعون راجہ سنگھ فوری طور پر اپنے بیانات پر مسلم برادری سے غیر مشروط معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے کی جانب سے کسی مذہب، برادری یا خواتین کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔
ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور عزت و احترام کی ضمانت دیتا ہے۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ کسی بھی عوامی نمائندے کو مذہبی منافرت پھیلانے یا کسی طبقے کے جذبات مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ راجہ سنگھ کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


