حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کی معروف برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے متفقہ طور پر ادارے کا نام ’’ماں واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘‘ رکھنے کی تجویز منظور کر لی ہے، جسے اب حتمی منظوری کے لیے ریاستی حکومت کو بھیجا جائے گا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار سمر بہادر سنگھ کے مطابق ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں نام کی تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی تھی، جسے تمام ارکان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اب حکومت کی منظوری اور سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد ہی نام کی تبدیلی نافذ العمل ہو سکے گی۔
اس فیصلے کے بعد علمی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ متعدد مورخین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی، ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے ایک اہم رہنما تھے اور یونیورسٹی کا نام ان کے نام پر 1988 میں رکھا گیا تھا تاکہ ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
مولانا برکت اللہ 1854 میں بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف عالمی سطح پر جدوجہد کی اور غدر تحریک سے وابستہ رہے۔ وہ جاپان، امریکہ، جرمنی اور افغانستان سمیت کئی ممالک میں ہندوستان کی آزادی کے لیے سرگرم رہے۔
1915 میں کابل میں قائم ہونے والی ہندوستان کی عبوری حکومت میں راجہ مہندر پرتاپ صدر جبکہ مولانا برکت اللہ وزیر اعظم مقرر ہوئے تھے۔ مورخین کے مطابق یہ برطانوی راج کے خلاف عالمی حمایت حاصل کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔
نام کی تبدیلی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نیا نام خطے کی ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ آزادی کے مجاہدین کے نام پر قائم اداروں کو برقرار رکھنا قومی تاریخ اور قربانیوں کی یاد تازہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔


